تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

پاکپتن دربار کے حوالے سے کیس، نوازشریف کو سپریم کورٹ بلا لیا گیا


اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ میں پاکپتن دربار کے اطراف دکانوں کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کا جواب مسترد کرتے ہوئے انہیں 4دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ منگل کو سپریم کورٹ میں پاکپتن دربار کے اطراف دکانوں کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل کے جواب کو مسترد کرتے ہوئے انہیں4دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ۔ نوازشریف کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ 1985کے وزیراعلیٰ

کی جانب سے جواب جمع کرادیا گیا تھا۔ 1985میں وزیراعلیٰ پنجاب نوازشریف تھے ۔ نوازشریف نے 1985میں بطور وزیراعلیٰ دربار کے گرد اوقاف کی زمین کی الاٹمنٹ کا نوٹیفکیشن ڈی نوٹیفکیشن کیا تھا۔ ڈی نوٹیفکیشن کی سمری پرنوازشریف نے دستخط نہیں کئے تھے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کس قسم کا جواب دے رہے ہیں ، اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں ، آپ نے تین بار وزیراعظم رہنے والے محترم سے متعلق عدالت میں یہ مؤقف دیا ہے ، مجھے پتا ہے کہ اس شریف آدمی کو پتا بھی نہیں ہوگا، کیا آپ جواب فائل کرنے سے پہلے نوازشریف سے ملے ہیں جس کے جواب میں وکیل نوازشریف نے کہا کہ دو بار ملا ہوں۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایک آدمی کی طرف سے آپ نے ایسا مؤقف لے لیا جسنے ان کا سارا کیریئر دائو پر لگا دیا ہے ۔ کیس کی فائل میں سمری لگی ہوئی ہے جس پر نوازشریف کے دستخط موجود ہیں ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پھر سارا کا سار فراڈ ہوا ہے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved