تازہ ترین  
پیر‬‮   21   جنوری‬‮   2019

روپے کی قدرمیں اچانک 10روپے کی کمی کے پیچھے کس کاہاتھ ہے،یہ خفیہ چال کس نے چلی؟


اسلام آباد(ویب ڈیسک )سینیٹ کی کمیٹی نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ روپے کی قدر میں حالیہ کمی کی تحقیقات کرے اور اس کی رپورٹ 22 دسمبر تک پیش کی جائے۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں حالیہ ریکارڈ کمی کا نوٹس لیتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمٰن ملک نے ایف آئی اے کو خط تحریر کیا،

جس میں کہا گیا کہ وہ اس معاملے میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے متعلق فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت تحقیقات کرے، جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور منی چینجر بھی شامل ہیں۔رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی تشویشناک صورت حال ہے کہ نہ ہی وزیراعظم اور نہ ہی وزیر خزانہ روپے کی قدر میں اس قدر کمی سے حوالے سے واقف ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کون لوگ اس سارے عمل کے پیچھے ملوث ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر روپے کی قدر میں ایک مافیا کی جانب سے کمی کی گئی تاکہ وہ اپنے پاس موجود ڈالر فروخت کرسکیں، تو اس حوالے سے تحقیقات ضروری ہیں۔سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایسا ہوچکا ہے کہ کچھ کرنسی ڈیلرز نے بڑی تعداد میں ڈالر خریدے اور جمع کیے تاکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کو زائد ریٹ پر ڈالر خریدنا پڑتے ہیں اور اس سے مارکیٹ کے ایک مخصوص حصے کو فائدہ ہوتا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین نے ہدایات جاری کیں کہ ‘ایف آئی اے اس بات کی تحقیقات کرے کہ حال ہی میں پیدا ہونے والی صورت حال میں کس نے فائدہ حاصل کیا اور ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے’۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض سے متعلق ہونے والے معاہدے کے حوالے سے آگاہ کریں اور یہ بھی بتائیں کہ آیا روپے کی قدر میں حالیہ کمی کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔انہوں نے ایف آئی اے سے تحقیقات کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو مقرر کرنے والے تمام طریقہ کار کی فہرست بنانے کا بھی کہا اور یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے رائج طریقہ کار کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بہت سی متنازع باتیں سامنے آرہی ہیں کہ کس طرح روپے کی قدر میں کمی کرکے نہ صرف ایک عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ اس سے قومی معیشت کو بھی طویل عرصے تک نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved