تازہ ترین  
جمعہ‬‮   19   اکتوبر‬‮   2018

شہریار آفریدی کا رات گئے تھانے پر چھاپہ! یہ قیدی بھی کسی کی اولاد ہیں،قیدیوں کی حال دیکھ کر وزیر مملکت برائے داخلہ پولیس اہلکاروں پر برہم، سخت ایکشن لے لیا


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی قیدیوں کی حالت دیکھ کر پولیس اہلکار پر برس پڑے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے رات گئے تھانے کا وزٹ کیا۔اس دوران انہوں نے قیدیوں سے ملاقات بھی کی۔تھانے میں قیدیوں کے لیے نامناسب حالات ہونے پر شہریار آفریدی پولیس اہلکار پر برس پڑے۔ انہوں نے ایک پولیس اہلکار سے کہا کہ جس طرح آپ کی اولاد ہے اسی طرح یہ قیدی بھی کسی کی اولاد ہیں۔شہریار
آفریدی ٹوائلٹ کے ساتھ ہی کھانے کی جگہ ہونے پر سخت برہم ہوئے اور کہا کہ یہ کوئی انسانیت

ہے کہ ایک ہی جگہ پر کھانا کھایا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی ٹوائلٹ بھی بنایا گیا ہے۔جرم اپنی جگہ لیکن کیا یہ انسان کی تذلیل نہیں ہے۔ انہوں نے ایک پولیس اہلکار کو کہا کہ آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ پاکستانیوں کی تذلیل کریں ۔ کیوں نہ میں آپ کے اور اس تھانے کے خلاف ایکشن لوں۔شہریار آفریدی نے شکایات لے کر آنے والے لوگوں کو انتظار کروانے پر بھی پولیس اہلکاروں کی کلاس لی۔انہوں نے کہا کہ آپ انہیں ذلیل کرتے رہیں مگر مچھوں پر آپکا ہاتھ نہیں

چلتا اور انہیں اٹھا لاتے ہو۔ خیال رہے اس قبل بھی وزیر داخلہ شہریار آفریدی رات گئے جیل میں قید کم عمر بچوں کو دیکھ کر آبدیدہ گئے تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ شہریار آفریدی رات گئے راولپنڈی تھانہ نیو ٹاؤن میں گئے۔وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی جب حوالات میں داخل ہوئے تو چوری کے الزام میں لائے گئے کم عمر بچوں کی بات سن کر آبدیدہ ہوگئے۔ شہریار آفریدی جیل میں کم عمر بچے کر دیکھ

کر حیران ہو گئے اور ان سے پوچھا کہ بیٹا آپ کو کیوںجیل میں بند کر رکھا ہے؟۔وفاقی وزیر داخلہ برائے مملکت کو بتایا گیا کہ بچے پر چوری کا الزام تھا۔شہریار آفریدی نے کہا کہ جو بھی ہے آپ ایک چھوٹے بچے کو کیسے حوالات میں بند کر سکتے ہیں؟۔ شہریا آفریدی نے کہا کہ کیا قانون آپ کو ان بچوں کو حوالات میں بند کرنے کی اجازت دیتا ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved