تازہ ترین  
ہفتہ‬‮   19   جنوری‬‮   2019

’’ایک بارپھر بریت مل گئی ‘‘ جائیدادوں میں شوکت خانم یا نمل کا پیسہ نہیں ہے۔۔ علیمہ خان کا بزنس کیا ہے اور اتنا پیسہ کیسے کمایا؟ وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی نے بتا دیا


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جائیدادوں میں شوکت خانم یا نمل کا پیسہ نہیں ہے۔۔ علیمہ خان کا بزنس کیا ہے اور اتنا پیسہ کیسے کمایا؟ وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی نے بتا دیا۔۔ سینئر تجزیہ کارہارون الرشید نے کہا ہے کہ عمران خان کوخاندان یا دوستوں کسی سے دلچسپی نہیں ، علیمہ خان کے اثاثوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں، جائیدادوں میں شوکت خانم یا

نمل کاپیسا نہیں ہے، علیمہ خان کا بڑا اچھا بزنس تھا، ٹیکسٹائل فرم 100کمپنیزکو مال سپلائی کرتی تھی،45کروڑ روپے جائز طریقے سے کمانا ممکن ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں علیمہ خان کی جائیداد بارے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان کی جائیداد سے شوکت خانم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ علیمہ خان نے جائیداد کا ٹیکس دیا ہے۔اس نے جس طرح پیسا کمایا جیسے کمایا اس کی منی ٹریل دینی چاہیے۔اپنے اثاثے ڈکلیئر اس کوکرنے چاہئے تھے۔اب قانون کی جہاں بھی خلاف ورزی ہورہی ہے۔اس بارے ایف بی آر، نیب اور دوسرے اداروں کو نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں اب بتانا نہیں چاہتا کہ کئی ایسے بھی صحافی ہیں جن کی لندن اور واشنگٹن میں جائیدادیں ہیں۔شوکت خانم اسپتال کی تمام عطیات کی کمائی مریضوں پر لگائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے حالات توآپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ان کواپنے خاندان سے کتنی دلچسپی ہے۔انہیں کسی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ اپنی ذات کے گنبد میں گم ہیں۔انہیں خاندان یا دوستوں کسی سے دلچسپی نہیں ہے۔دوست اس کے کام آئیں لیکن اگر کسی دوست کو کام آن پڑے، جیسے شاہد مسعود کا کیا حال

ہورہا ہے۔وہ شاہد مسعود کی کوئی قانونی مدد نہیں کرسکتا۔قانونی مدد نہیں کرسکتا تھا توٹھیک اس کا حال ہی پوچھنے چلا جاتا، کسی کوبھیج دیتا، کھانا ہی بھجوادیتا۔ہارون الرشید نے کہا کہ علیمہ خان کا بڑا اچھا بزنس تھا، ٹیکسٹائل فرم کی نمائندہ تھیں۔
فرم 100کمپنیزکو مال سپلائی کرتی تھی۔45کروڑ روپے جائز طریقے سے کمانا ممکن ہے۔لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ تحقیقات نہ ہوں ۔شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کا پیسا اس میں شامل نہیں ہے۔ نمل یونیورسٹی میں عمران خان نے 30لاکھ دیے اس سے قبل ان کے والد مرحوم نے 40لاکھ روپے دیے تھے۔لہذا شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کا پیسا نہیں ،ادارے پیسے لیتے ہیں دیتے نہیں،ان کا آڈٹ بڑے ادارے کرتے ہیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved