تازہ ترین  
منگل‬‮   23   اکتوبر‬‮   2018

” کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں ؟” اسحاق ڈار کے ویڈیو کلپ نے مشکلات میں گھری حکومت کی پریشانی بڑھا دی عمران خان اور اسد عم کی تقاریر بھی ریکارڈ پر آگئیں، انتہائی حیران کن صورتحال


اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو معاشی مشکلات کے باعث معروف ٹی وی اینکرز نے بھی ناقص پالیسیوں پر شدید تنقید شروع کر دی۔ جمعرات کو ایک معروف نجی ٹی وی اینکرنے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کے سابق بیانات کو پروگرام میں نشر کیا جس میں عمران خان تقریر کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ جب ڈالر کی قدر میں ایک

روپے کا اضافہ ہوتا ہے تو ملک پر اربوں روپے کے قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، عمران خان مر جائے گا لیکن کبھی بھیک نہیں مانگے گا،اگر ایسے کام کرنے پڑے تو آپ کا وزیراعظم خودکشی کرلے گا، پروگرام میں اسد عمر کی سینیٹ میں ایک تقریر دکھائی گئی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا،اور اگر ایسا کرنا پڑا تو پہلے کابینہ کو بریف کریں گے اور پھر پارلیمنٹ سے رابطہ کریں گے،پروگرام میں عمران خان کا ایک اور بیان دکھایا گیا جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے

پاس جانا پڑے تاہم اس حوالے سے ابھی مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے،اسد عمر کا ایک اور کلپ پروگرام میں دکھایا گیا جس میں وہ تسلیم کر رہے تھے کہ قرض حاصل کرنے کیلئے ہمیں آئی ایم ایف سے بات کرنی پڑے گی۔ پروگرام میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا بھی ایک کلپ نشر کیا گیا جس میں وہ اس بات کی تصدیق کر رہے تھے کہ حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کرے گی اور ان تمام کلپس کے اختتام پر سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا سوشل میڈیا پر

کچھ عرصہ پہلے وائرل ہونے والا ایک کلپ دکھایا گیا جس میں ایک شہری کے تنگ کرنے پر وہ کہہ رہے تھے کہ کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ ایک اور معروف اینکر نے اپنے پروگرام میں یہ تجزیہ پیش کیا کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اپنے دورحکومت میں ڈالر کی قیمت کو 103روپے پر روکے رکھا اور گیس و بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھنے دیں، دنیا کے بڑے معاشی اداروں کو پاکستان کا مستقبل روشن نظر آرہا تھا لیکن موجودہ حکومت کے 17معاشی ماہرین نے صرف 55دنوں میں ملک کا جلوس نکال دیا۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved