تازہ ترین  
بدھ‬‮   14   ‬‮نومبر‬‮   2018

وہی ہوا جس کا ڈر تھا: شریفوں اور زروالوں کو بچانے کے لیے نیب کے سابق افسران بڑی چال چل گئے


اسلام آباد (ویب ڈیسک) نیب نے ملک سےکرپشن کے خاتمے اور بد عنوانی میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے لیکن نیب کےاپنے ہی ریٹائرڈ افسران نیب کے آڑے آ رہے ہیں۔ نیب کے ریٹائرڈ افسران کرپشن اسکینڈلز میں ملوث کمپنیوں میں اعلیٰ عہدے حاصل کر کے تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ

کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بھی اس پر نوٹس لیتے ہوئے ریٹائرڈ افسران کے نیب ہیڈکوارٹر اورریجنل دفاتر میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے ۔ریٹائرڈ افسران کرپشن کی تحقیقات کا سامنا کرنے والی کمپنیوں میں ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمتیں حاصل کرکے انکوائری ختم اور کمزور ریفرنس دائر کرانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیب کے ریٹائرڈ افسران نیب ٹی سی ایس رولز 2002ء کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نجی کمپنیوں میں مختلف عہدوں پر تعینات ہوئے ۔ نیب کے ٹی سی ایس رولز 2002ء کی شق 9 کے مطابق ریٹائرڈ افسران کے لیے نجی کمپنیوں میں ملازمت کے لیے پیشگی منظوری حاصل کرنا لازم ہے ۔نیب کے بیشتر ریٹائرڈ افسران چیئرمین نیب کی پیشگی منظوری کے بغیر نجی کمپنیوں میں ملازمت کررہے ہیں۔ حکام کے مطابق نیب کے رولز کی خلاف ورزی کے مرتکب افسران کے خلاف بھی کارروائی زیر غور ہے ۔ چیئرمین نیب کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈائریکٹر عمران سہیل نے نیب کے تمام ریجنل دفاتر کو مراسلہ ارسال کردیا اور نیب کے تمام افسران کو ریٹائرڈ افسران کے ساتھ روابط اور کرپشن کی

تحقیقات سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرنے سے منع کردیا ہے ۔حکام کے مطابق چیئرمین نیب کی جانب سے تمام افسران کو واضح پیغام دیا گیا کہ،ریٹائرڈ افسران کے ساتھ کرپشن میں ملوث کمپنیوں کی معلومات کا تبادلہ کرنے والے افسران کے خلاف نیب قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ نیب کے 6 ریٹائرڈ افسران ایسی کمپنیوں میں تعینات ہیں جن کے خلاف اربوں روپے کرپشن کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق چیئرمین نیب کی پیشگی منظوری کے بغیر ریٹائرڈ افسران کے نیب ہیڈکوارٹر اورریجنل دفاتر میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔ جبکہ دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان نے کے الیکٹرک کے حصص کی فروخت میں مبینہ کرپشن کا نوٹس لے لیا، انھوں نے کہا یہ اہم معاملہ ہے، اس کی انکوائری ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی شہزاد اکبر نے اے آروائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کو آج ابراج گروپ کے الیکٹرک معاملے سے آگاہ کیا گیا تو انھوں نے معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے انکوائری کی ہدایت کر دی۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ نیب کے

الیکٹرک کا معاملہ نہیں دیکھ رہی تو ہم با ضابطہ انکوائری کا کہہ دیں گے، اس معاملے پر نیب کو ابراج گروپ کے عارف نقوی کو بلانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وال اسٹریٹ کی کے الیکٹرک پر رپورٹ کو پہلے سے دیکھا جا رہا ہے، یقینی بنائیں گے کہیں کوئی کرپٹ پریکٹس تو نہیں، بے ضابطگی نظر آنے پر کے الیکٹرک معاملے کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں قائم ایسِٹ ریکوری یونٹ آگے بڑھائے گا، ایف آئی اے کو ابراج، کے الیکٹرک کا معاملہ دیکھنے کے لیے کہہ دیا ہے۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ ماضی میں جوبھی پیسا لوٹا جاتا تھا وہ زیادہ تر یو اے ای اور برطانیہ گیا، اس سلسلے میں برطانیہ میں نیشنل کرائم ایجنسی کے ہیڈ، اسکاٹ لینڈ یارڈ کے منی لانڈرنگ یونٹ، اور 4 سے 5 ممالک کی اینٹی کرپشن ایجنسیوں کی یونین اور برطانوی سیکریٹری داخلہ سے ملاقات ہوگی۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved