صدرطیب اردگان کا حکام ملتے ہی ترک فوجیں ایسے ملک میں داخل دشمن کے چھکے چھوٹ گئے
  13  اکتوبر‬‮  2017     |     دنیا

انقرہ(ویب ڈیسک) کردستان میں ممکنہ فوجی آپریشن کے پیش نظر ترک فوجی دستے شمالی عراق میں داخل ہوگئے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق 12گاڑیوں اور 80اہلکاروں پر مشتمل ترک فوج کا پہلا دستہ شمالی عراق کے علاقے ادلب میں داخل ہوگیا ہے۔ یہ پیش رفت 25 ستمبر کو عراق کے نیم خودمختار علاقے کردستان کی آزادی سے متعلق منعقدہ ریفرنڈم کے ردعمل میں ہوئی ہے۔ سرحد پر مقیم باشندوں اور مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادلب کے مختلف علاقوں میں ترک فوج کو گشت کرتے دیکھا ہے جو کہ شمال کی جانب پیش قدمی کررہی ہیں۔دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردگان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے شمالی عراق سے متصل سرحد کو بتدریج بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عراق کی وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے بغداد حکومت سے تعاون کرنا ہے۔

واضح رہے کہ عراق،ترکی اور ایران نے کردستان آزادی ریفرنڈم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کردستان کے علاحدہ ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت کردعلاقے سے تیل کی ترسیل کو روکنا سرفہرست ہے۔عراقی ریاست کردستان میں ترکی سے ملحقہ سرحد پر 15سے20فیصد کرد آباد ہیں جو اپنی آزاد ریاست کے لیے مسلح جدوجہد کافی عرصے سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ترکی کا ماننا ہے کہ خطے سمیت انقرہ میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں کرد مسلح جنگجووں کا ہاتھ ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved