ہجیرہ،والد کی پریس کانفرنس کے خلاف بیٹا اور پوتے میدان میں آ گئے
  13  اکتوبر‬‮  2017     |      کشمیر

ہجیرہ(نامہ نگار) والد کی پریس کانفرنس کے خلاف بیٹا اور پوتے میدان میں آ گئے تمام الزامات کو من گھڑت قرار دے دیاتحقیقات کا مطالبہ یاد رہے گزشتہ دنوں80 سالہ بزرگ محمد شریف ولد فضل دین ساکن ناڑیا ں نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے بیٹے محمد لطیف اور پوتوں پر سنگین ی ا لزامات عائدکرتے ہوئے کہا تھا کے اسے اپنے حقیقی بیٹے محمد لطیف اور پوتوں سے جان کا خطرہ ہے اور اس کے بیٹے نے اس کا مکان جس پر اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی لگی تھی ساری زندگی خدمت اور خرچہ دینے کا وعدہ کر کے اپنے نام ھبہ کروایا تھا اور اب زمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے محمد لطیف نے اپنے والد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کے میرے والد نے میرے نام کوئی مکان ہبہ نہیں کیا تھا مکان اب بھی والد اور بھائیوں کے قبضے میں ہے ان کا کہنا تھا جہاں تک مجھ سے اور میرے بچوں سے میرے والد کو جان کا خطرہ ہے تو تمام علاقہ جانتا ہے کہ میرے 3بیٹے نارمل نہیں ہیں ان کے قد 3فٹ سے کم ہیں بڑا بیٹا جو نارمل ہے وہ بھی معزوری کے قریب ہے ان کا مزید کہنا تھااپنے والد کے ساتھ گاؤں میں دوکان چلاتا تھا جہاں سے اسے1995میں بے دخل کر دیا گیا اور دوکان کے زمہ 35000روپے قرض اس کے زمہ لگا دیا 2003میں میرے

والد نے میری زاتی محنت سے بنائی گٗی دوکان 35000قرض جس سے اس کا کوئی تعلق بھی نہ تھا کے عوض لے لی جس کا اقرار نامہ عدالت میں رجسٹرد ہے ہماری آبائی زمین جو کہ18 کنال 16مرلہ ہے ہم 4 بھائی ہیں میرے والد نے 15کنال زمین 3بھائیوں میں تقسیم کی جبکہ میرے حصہ میں 3 کنال 16مرلہ آئی مگر جب زمین پیمائش کروائی گئی تو مجھے ہبہ کی گئی زمین 3کنال سے بھی کم نکلی میں نے احتجاج کیا تو جرگہ میں فیصلہ ہوا کہ مجھے میرا پورا حق دیا جائے گا اور میں والد کی کفالت کروں گا مگر مجھے میرا حق نہ دیاگیا بلکہ میرے والد نے مجھے ہبہ کی گئی زمین کی منسوخی کے لیے عدالت میں درخواست دے دی میرے بھائی بھی میری جان کے دشمن بن گئے اور مجھ پر تشدد بھی کیا گیا میں ہجیرہ شہر میں چھوٹا موٹا کاروبار کر کے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا ہوں میرے بھائی اور میرا والد میری اور میرے بیوی بچوں کی جان کے دشمن بن گئے ہیں مجھے آئے روز مختلف طریقوں سے زہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس وجہ سے میں اور میرے بیوی بچے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں میری معززین علاقہ اور انتظامیہ سے اپیل ہے کہ تمام معملات کی تحقیقات کی جائے اور مجھے تحفظ فراہم کیا جائے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved