غیرملکی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں شاندارمواقع ہیں،پرویزملک
  18  اکتوبر‬‮  2017     |     یورپ

برسلز( ا و صا ف نیو ز )پاکستان بلجیم کے ساتھ اپنی قریبی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے حالیہ انتخاب کے موقع پر پاکستان کے لئے بلجیم کی حمایت اس کے نزدیک لائق تحسین ہے جس کی بدولت پاکستان 151 ووٹ حاصل کر کے کونسل کا رکن منتخب ہوا۔ کامرس اور ٹیکسٹائلز کے وفاقی وزیر محمد پرویز ملک اور اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف علی نے آج یہاں برسلز میں بلجیم کے نائب وزیر اعظم اور غیرملکی تجارت کے ذمہ دار وزیر کرس پیٹرز کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران انہیں اپنے ان خیالات سے آگاہ کیا۔ دونوں اطراف سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت میں ہونے والے اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ بلجیم یورپی یونین میں پاکستان کا ساتواں بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم 2014 میں 681.8 ملین یورو تھا جو 2016 کے آخر تک بڑھ کر 842 ملین یورو تک پہنچ گیا جس سے دو سال کے عرصے میں 23.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔ وزیرکامرس نے کرس پیٹرز کو پاکستان کے تجارتی اور سرمایہ کاری ماحول کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے شاندار مواقع موجود ہیں جہاں سرمایہ کاری کے لئے سازگار قواعد وضع کئے گئے ہیں اور انیس کروڑ سے زائد افراد کی بڑی مارکیٹ یہاں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلجیم کے سرمایہ کار حکومت کی طرف سے خاص طور پر توانائی کے شعبے میں فراہم کی گئی مراعات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف علی نے عام آدمی کے حالات بہتر بنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے کئے گئے مثبت اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ 2015 میں حکومت پاکستان نے پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعے ایک آزاد قومی انسانی حقوق کمیشن قائم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن کی کئی سفارشات منظور کر لی گئی ہیں اور حکومت پاکستان نے انہیں نافذ کر دیا ہے جن میں ہندو شادی ایکٹ 2017، کم سن بچوں کے لئے نظام انصاف کا بل 2017، مخنث افراد کا ایکٹ 2017، فوجداری قانون کا ترمیمی ایکٹ 2016 (جس کے تحت بچوں کے ساتھ زیادتی، بچوں کی فحش تصویریں یا ویڈیو بنانے کو جرم قرار دے دیا گیا ہے اور بچوں کو مجرم ٹھہرانے کی عمر بڑھا دی گئی ہے)، کام کرنے کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے سے تحفظ کی ترمیم 2016 اور بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن کا بل 2017 خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت سمندرپار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل نے بچوں سے مشقت اور جبری مشقت سے نمٹنے کا قومی فریم ورک وضع کیا ہے جس میں قوانین اور ان کا نفاذ بہتر بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved