والدین کی عمرہ پر روانگی سے پہلے ننھی زینب اپنی والدہ سے کیا” ضد” کرتی رہی جو اگر پوری ہو جاتی تو آج زینب زندہ ہوتی
  12  جنوری‬‮  2018     |     اہم خبریں

لاہور(ویب ڈیسک )قصور میں کم سن بچی کے ساتھ درندگی کا واقعہ پیش آیا ۔ تفصیلات کے مطابق اس واقعہ کے خلاف قصور سمیت ملک بھر کی عوام سراپا احتجاج ہے۔ زینب کی والدہ نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ میری بیٹی 8 سال کی نہیں بلکہ ساڑھے چھ سال کی تھی۔ انہوں نے کہا کہمیں جب عمرے پر جانے لگی تو میں اس سے وعدہ کر رکے گئی تھی کہ اگلی مرتبہ تمہیں بھی اپنے ساتھ لے کر جاؤں گی۔میں اللہ کے گھر میں دعا کرتی رہی کہ اللہ مجھے صبر عنایت فرما لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ مجھے اپنی بچی کی موت پر صبر کرنا ہو گا۔ زینب کی والدہ نے میڈیا سے کہا کہ وعدہ کرتے ہو؟ کہ اس بار ہمیں اکیلا نہیں چھوڑو گے۔ قصور بارہ لاشیں اُٹھا چکا ہے اور یہ وہ لاشیں ہیں جو رپورٹ ہوئی ہیں۔ میری بچی کو گھر سے پانچ سو گز کے فاصلے سے اغوا کیا گیا اور پھر چند گھنٹوں کے بعد وہیں پھینک دیا گیا جہاں قصور بھر کا کچرا پھینکا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ قصور میں 8 سالہ بچی زینب کو 5 روز تک زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا جب کہ ملزمان نے بچی کی لاش کو کچرا کنڈی میں پھینک دیا۔ واقعے کے خلاف شہر میں ہنگامےپھوٹ پڑے اور پولیس کی مظاہرین پر فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔خیال رہے کہ8 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کردیا گیا

اور اس کی لاش کو کچرے میں پھینک دیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق قصور میں 8 سالہ بچی زینب کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا جب کہ ملزمان نے بچی کی لاش کو کچرے میں پھینک دیا، اطلاعات کے مطابق 5 روز قبل زینب سپارہ پڑھنے گھر سے نکلی تھی لیکن گھر کے قریب بچی کو راستے میں اغوا کرلیا گیا، بچی کی گمشدگی پر اہل خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی تاہم گزشتہ رات کچرے کے ڈھیر سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔واقعے کے بعد پولیس نے زینب کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا، ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچی کو ایک سے زائد بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد اہل علاقہ مشتعل ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا۔ علاقے میں مکمل ہڑتال ہے اور دکانیں بھی بند کردی گئیں، کمسن بچی زینب کے قتل کے خلاف ڈسٹرکٹ بار اور انجمن تاجران نے ہڑتال کا اعلان کردیا اور بچی کے قتل میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری پر احتجاج کیا۔دوسری جانب زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی زینب کی نمازجنازہ ادا کردی گئی ہے، عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے نمازجنازہ پڑھائی جس میں سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔واقعے سے متعلق ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد نے بتایا ہے کہ پولیس بچی کے ساتھ ہونے والے اس سلوک میں ملوث درندہ صفت انسان کی گرفتاری کے لیے ہر زاویے سے تفتیش کررہی ہے۔ اب تک 5 ہزار لوگوں سے تفتیش کی گئی ہے جب کہ 67 افراد کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر زیادتی کے بعد قتل ہونےوالی یہ آٹھویں بچی ہے، زیادتی کا شکار بچیوں کے ڈی این اے سے ایک ہی نمونہ ملا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بچی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میں کیس پر پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کروں گا، واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، معصوم بچی کے قتل کے ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے اور متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔واضح رہے کہ قصور کے تھانہ صدر کی حدود میں زینب سمیت 12 بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر انہیں کچرے کے ڈھیر میں پھینکا گیا، جن میں سے 11 بچیاں دنیا سے کوچ کرگئیں جب کہ کائنات نامی صرف ایک ہی بچی کو زندگی مل سکی، پولیس نے ان تمام واقعات کی رپورٹس تو درج کیں لیکن عملی طور پر مجرم کو پکڑنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
50%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved