زینب قتل کیس ریحام خان بھی میدان میں آگئیں ،شہبازشریف سے بڑامطالبہ کردیا
  13  جنوری‬‮  2018     |     اہم خبریں

قصور(ویب ڈیسک)سابق نیوز اینکر اور سماجی کارکن ریحام خان نے قصور میں کم سن بچی زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے افسوس ناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ اس واقعے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔قصور میں قتل ہونے والی 7 سالہ زینب کے گھر آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریحام خان نے بتایا کہ وہ لندن میں تھیں، جب انہیں زینب کے بہیمانہ قتل کی خبر ملی۔ان کا کہنا تھا، ‘میں لندن میں بیٹھی تھی، جب میں نے یہ خبر سنی، جس کے بعد میں اگلی فلائٹ لے کر کل رات کو پاکستان پہنچی اور سب سے پہلے قصور آئی ہوں’۔ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں بیٹھے لوگوں کو یقین نہیں آرہا کہ ہم بچوں کے ساتھ تشدد اور زیادتی کے واقعات کے حوالے سے اتنے سالوں سے کیا کرتے رہے ہیں۔ریحام خان نے درخواست کی، ‘خدارا اس واقعے کو سیاسی رنگ مت دیں’، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ سیاسی لیڈران بچوں سے جنسی تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے یکجہتی دکھائیں۔انہوں نے مقتولہ زینب کی نماز جنازہ پڑھانے والے سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایک بہن کی حیثیت سے میری آپ سے درخواست ہے کہ ہماری بچیوں کی سالگرہ کے لیے بھی آگے آئیں

’۔ریحام خان نے بچوں پر جنسی تشدد کے حوالے سے میڈیا کوریج کو سراہا، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہمیں بار بار اپنے بچوں کی لاشیں اٹھانی پڑ رہی ہیں’۔اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے درخواست کی کہ جتنی تیزی سے انہوں نے اورنج لائن ٹرین بنائی ہے، اس کیس کی تحقیقات میں بھی تیزی دکھائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘شہباز شریف کی مثال دوسرے صوبوں میں دیتے ہیں، یہاں بھی مثال قائم کریں’۔ریحام خان نے شہباز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘آپ ہمارے بڑے ہیں، آپ کو گورننس کا تجربہ ہے اور ہم آپ سے توقعات رکھتے ہیں، لہذا قصور میں سرجیکل اسٹرائیک کرکے مجرموں کو فوری گرفتار کریں’۔ان کا کہنا تھا کہ قصور کا شمار جرائم کے اعتبار سے 10 سرِفہرست اضلاع میں ہوتا ہے اور یہاں بچوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں۔ساتھ ہی ریحام خان نے پنجاب کے بجٹ میں سے چائلڈ پروٹیکشن یونٹس بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔زینب کا اغوا اور قتل ۔یاد رہے کہ قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی رہائشی 7 سالہ زینب کو 4 جنوری کو ٹیوشن جاتے ہوئے اغواء کرلیا تھا، جس کی لاش 4 دن بعد کشمیر چوک کے قریب واقع ایک کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی تھی۔پولیس کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا، جس کی تصدیق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہوئی۔واقعے کے بعد شہر بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے اور لوگوں نے پولیس کے خلاف احتجاج کیا، ان پرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق بھی ہوئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved