زینب قتل کیس معاملہ ، آئی جی پنجا ب نے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد اہم اعلان کر دیا
  14  جنوری‬‮  2018     |     اہم خبریں

لاہور (نیوز ڈیسک ) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہاہے کہ زینب قتل کیس کو جلد از جلد حل کرنے کیلئے سائنسی بنیادوں پر انویسٹی گیشن کے جدیدترین طریقہ کار کو اپنایا جائے اور تمام مشکوک افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ جلد مکمل کرنے کے علاوہ نادرا کے ساتھ معلومات کے تبادلے کو یقینی بنایا جائے تاکہ سفاک مجرم کوجلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ کے متعلق علاقہ مکینوں اور مدعیا ن کو اعتماد میں لیتے ہوئے بھرپور تعاون حاصل کیا جائے اور تفتیش میں مصروف عملے کو ڈیوٹی کے حوالے سے باقاعدہ بریف کیا جائے تاکہ وہ اپنے فرائض بطریق احسن سر انجام دے سکیں ،۔۔۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج آئی جی ہائوس میں زینب قتل کیس کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں پولیس افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں جے آئی ٹی کے سربراہ آر پی او ملتان محمد ادریس ، آر پی ا و شیخوپورہ ذوالفقار حمید ، ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت سمیت جے آئی ٹی کے دیگر افسران نے بذریعہ ویڈیولنک شرکت کی جبکہ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی آپریشنز عامر ذوالفقار خان ، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن ابو بکر خدا بخش ، اے آئی جی لیگل عبدالرب اور اے آئی جی مانیٹرنگ احسن یونس بھی موجود تھے ۔اجلاس میںجے آئی ٹی سربراہ محمد ادریس اور دیگر ممبران نے زینب قتل کیس میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے حوالے سے آئی جی پنجاب کو بریفنگ دی جس کے بعد قتل سے متعلق دیگر تمام پہلوئوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، آئی جی پنجا ب نے افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کی نظریں زینب قتل کیس پرمرکوز ہیں لہٰذاکام کی رفتار کو مزید بڑھاتے ہوئے اسے جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش کے مراحل کو جلد مکمل کرنے کیلئے دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے تاکہ معصوم زینب کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر باقی نہ رہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved