بدھ‬‮   23   مئی‬‮   2018
ایک طرف ریحام خان عمران خان پر الزامات لگا رہی ہیں تو دوسری طرف ان کے پہلے شوہر نے بھی اپنی بیوی سمیت انٹری دے دی
  13  فروری‬‮  2018     |     اہم خبریں

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کافی دنوں سے خبروں میں ہیں، ریحام بھارت میں انٹرویو، ملک چھوڑنے،عمران خان کے حوالے سے بیاتات اور اپنی آنے والی کتاب کی وجہ سے خبروں میڈیا میں نمایاں ہیں، تاہم پی ٹی آئی سربراہ نے اپنے پارٹی رہنمائوں کو ریحام خان کے کسی بیان پر جوابی ردعمل سےمنع کردیا تھا۔لیکن اب ریحام خان کے سابق سابق شوہر ڈاکٹر اعجاز نے تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ میری سابقہ شادی شدہ زندگی کے 12 سال بہت برے اور مشکل گزرے، اگر میں ریحام طلاق نہ دیتا تو شاید میں زندہ نہ بچ سکتا۔نجی ٹیلی وژن کو انٹرویو میں ڈاکٹر اعجاز کا کہنا تھا کہ ریحام خان کی جانب سے تشدد کے الزامات کی مجھے وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں نے اپنے بچوں کی خاطر اس کے ساتھ 12 سال گزارے لیکن جب ہم دونوں کا گزارہ نہیں ہو سکا تو میں نے انھیں طلاق دیدی

۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز کی اہلیہ ڈاکٹر سماویہ کا کہنا تھا کہ مجھے دوسروں کی عزت کرنا آتی ہے اور اپنی کروانا بھی آتی ہے۔ اگر ڈاکٹر اعجاز مجھ پر تشدد کرتے ہوتے تو آج میں یہاں نہ بیٹھی ہوتی۔ریحام خان کی تعلیم کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز نے بتایا کہ ریحام خان میرے سامنے بالکل بھی نہیں پڑھتی تھی، انہوں نے میرے سامنے کوئی ڈگری لی اور نہ ہی انھیں پڑھنے کا شوق تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری فیملی بہت اعلی تعلیم یافتہ ہے۔ ہماری فیملی میں تمام لوگ بہت پڑھے لکھے ہیں، ریحام خان ہماری فیملی میں سب سے کم تعلیم یافتہ تھیں۔ڈاکٹر اعجاز نے کہا کہ ریحام خان نے یہ بھی کہا کہ میں نے ان کو پڑھنے سے روکا اور وہ چھپ چھپ کر پڑھتی تھی لیکن میں نے اسے کیوں روکنا ہے اگر ایسی بات ہوتی تو میں کسی ان پڑھ سے شادی کر لیتا۔ میری دوسری بیوی بہت پڑھی لکھی ہے اور میں نے اس کو مکمل آزادی دی ہے اور زندگی کے ہر سٹیج پر سپورٹ کیا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved