معروف ترین پاکستانی بینک ایک ہزار روپے میں فروخت ہو گیا ،، پبلک اکائونٹس کمیٹی بھی حرکت میں آگئی
  26  اپریل‬‮  2018     |      کاروبار

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اسلامی بینک کی مبینہ طور پر ایک ہزار روپے میں فروخت اور بینک کے حوالے سے ایم سی بی اور چینی پیشکشوں کو نظرانداز کرنے کے معاملہ پر سٹیٹ بینک پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ قومی احتساب بیورو اس معاملہ کا ازخود نوٹس لیں، پی اے سی نے آڈیٹر جنرل آفس اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو آئندہ ہفتہ تفصیلی بریفنگ دینے کی ہدایت کی ہے۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین کمیٹی راجہ جاوید اخلاص، سردار عاشق حسین گوپانگ، سینیٹر چودھری تنویر خان، سینیٹر ہدایت اللہ، شفقت محمود، سینیٹر شیری رحمن، شاہدہ اختر علی، سینیٹر مشاہد حسین سیّد، سیّد نوید قمر،

جعفر خان لغاری کے علاوہ متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے شروع میں سیّد خورشید احمد شاہ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں اے جی پی آر کا کوئی افسر نہیں آتا، انہیں خط لکھا جائے اور ان کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی کہ آڈیٹر جنرل آفس کا تھرڈ پارٹی کے ذریعے آڈٹ یقینی بنایا جائے۔ سردار عاشق حسین گوپانگ نے کہا کہ آڈیٹر جنرل اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (سی جی اے) دونوں کو اوپن بریفنگ دینی چاہئے۔ پی اے سی کے چیئرمین نے ہدایت کی کہ آئندہ ہفتہ کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس اور آڈیٹر جنرل آفس کے حوالے سے پی اے سی کو بریفنگ کا اہتمام کیا جائے۔ فنانس ڈویژن کے 2015-16ء کے آڈٹ اعتراضات ک جائزہ کے دوران اے جی پی آر کی طرف سے ریٹائرڈ ملازمین کے چیکوں میں تاخیر کے حوالے سے پی اے سی کے ارکان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ سینیٹر چوہدری تنویر خان نے کہا کہ مالی مشکلات کے دور میں چیکوں کی عدم فراہمی سے ملازمین کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے، انہیں اس کا خیال رکھنا چاہئے۔ سیّد خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اگر اے جی پی آر کے افسران یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ انہیں بھی ریٹائر ہونا ہے تو پھر یہ حالات نہیں رہیں گے۔ سیکرٹری خزانہ عارف احمد خان نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وزارت خزانہ نے اس مد میں 140 ارب سے زائد ایسی ادائیگیاں کی ہیں جن کا بجٹ میں ذکر ہی نہیں ہوتا۔ سیّد نوید قمر نے کہا کہ وزارت کے بجٹ میں منصوبہ بندی کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ اس صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزارت خزانہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ کس سال کتنے لوگوں نے ریٹائر ہونا ہے، اس کو مدنظر رکھ کر ان کی پنشن کا بجٹ مختص کیا جائے۔ سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ وفاقی حکومت 6 لاکھ 56 ہزار سول ملازمین اور 7 لاکھ 20 ہزار فوج کے ملازمین کو تنخواہیں دیتی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ اے جی پی آر کے پاس ریٹائر ہونے والے تمام ملازمین کے اعدادوشمار موجود ہوتے ہیں، منصوبہ بندی کیلئے ان کی مدد لی جا سکتی ہے۔ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی اخراجات کی مد میں ہم نے رواں سال ایک ہزار ایک ارب روپے مختص کئے تھے جن میں سے رواں سال 750 ارب روپے خرچ ہوں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved