دو کالم
  10  اگست‬‮  2018     |     اہم خبریں

پرویز الٰہی اور چودھری سرور کے رابطے ، نون لیگ میں فارورڈ بلاک بنے گا ( پٹیاں ) دونوں کا تعلق پنجاب کی بڑی برادریوں سے ، لیگی ارکان کو راغب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مسلم لیگ ( ن) کے وزرا اور ارکان اسمبلی کو شہباز شریف کی جانب سے نظرانداز کیا جانا یاد ہے نئے وزیراعلی کو پرویز الٰہی اور چودھری سرور کی موجودگی میں معاملات چلانے میں آسانی رہے گی تجزیہ: محسن گورایہ پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب میں وزیر اعلی کے اعلان سے پہلے بڑے مضبوط اور اہم فیصلے کر دیئے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی کو سپیکر پنجاب اسمبلی اور چودھری سرور کو گورنر پنجاب نامزد کر کے یہ واضح پیغام دیدیا ہے کہ آئندہ دنوں میں پی ٹی آئی پنجاب میں مزید مضبوط اور انتظامی و سیاسی طور قابل ذکر کام کرے گی ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی طرف سے نامزد دونوں چودھری جن مناصب پر نامزد کئے گئے ہیں وہ اس سے پہلے بھی ان عہدوں کو کامیابی سے چلا چکے ہیں۔ دونوں چودھری پنجاب کی تین بڑی برادریوں میں سے دو سے تعلق رکھتے ہیں چودھری پرویز الٰہی اگر جاٹ ہیں تو چودھری محمد سرور آرائیں قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ امر بھی بڑا دلچسپ ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کو بھی پہلی بار مسلم لیگ نے سپیکر نامزد کیا تھا اور چودھری سرور بھی پنجاب میں گورنر کے منصب پر مسلملیگ ( ن) ے ہی نامزد کردہ تھے۔ دونوں پنجاب کی سیاست پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں اور دونوں میں یہ اہلیت ہے کہ وہ پنجاب میں مسلملیگ ( ن) کے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کو اپنی طرف راغب کر سکتے ہیں۔ ان دونوں کی نامزدگی سے اس امر کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ پنجاب میں جلد مسلم لیگ ( ن) کا فارورڈ بلاک بن جائے گا۔ اِن دونوں چودھریوں کے اب بھی پنجاب میں مسلم لیگ( ن) کے ارکان اسمبلی سے قریبی رابطے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی پنجاب میں جوڑ توڑ اور روابط کے ماہر ہیں اپنے 5 سالہ وزارت اعلی کے دور میں انہوں نے پنجاب کی ترقی کیلئے نہ صرف مثالی کام کیا بلکہ ارکان اسمبلی کو وہ عزت احترام دیا جو ارکان اسمبلی اب بھی یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں ایک مثالی بیوروکریسی کے ذریعے حکومت کی۔ جس کی وجہ سے تمام ادارے انہیں پسند کرتے تھے اور ہیں۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ دس برسوں کے دوران جس طرح مسلم لیگ ( ن) اور خصوصی طور پر شہباز شریف کی طرف سے اپنے وزرا اور ارکان اسمبلی کو نظر انداز کیا گیا وہ ابھی تک مسلم لیگ ( ن) کے ارکان اسمبلی کو یاد ہے۔ انہی بنیادوں پر سیاسی پنڈت یہ کہہ رہے ہیں کہ جلد ہی مسلم لیگ ( ن) میں فارورڈ بلاک بننے والا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ ( ن) پنجاب میں ایک بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی کے ذریعے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی بھی تیاری میں ہے اور ان کا مقابلہ چودھری پرویز الٰہی جیسا تجربہ کار اور وضعدار پارلیمنٹیرین ہی سپیکر کے طور پر کر سکتا ہے۔ جہاں تک چودھری محمد سرور کا تعلق ہے تو انہوں نے مسلم لیگ( ن) کی گورنری چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی اور اب پی ٹی آئی نے وہ گورنری انہیں واپس لوٹا دی ہے۔ چودھری سرور کا تعلق بھی ارکان اسمبلی کے ساتھ بہت قریبی ہے انہوں نے ماضی میں جب گورنر شپ سے استعفیٰ دیا تھا تو یہ ان کی بڑی بہادری تھی کہ ایک اتنے بڑے عہدے کو انہوں نے اصولی بنیادوں پر چھوڑ دیا تھا۔ چودھری سرور پر اس وقت صاف پانی پراجیکٹ اور کئی دوسرے معاملات میں بڑا پریشر ڈالا جا رہا تھا۔ چودھری سرور مختلف این جی اوز اور غیر ملکی مخیر حضرات کے ذریعے پنجاب میں ایسے پراجیکٹ مفت لگانا چاہ رہے تھے جبکہ ان کی راہ میں روڑے اٹکا کر سابق وزیراعلی اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز اپنے چہیتوں کے ذریعے مہنگے داموں یہ پراجیکٹ چلانا چاہتے تھے۔ بہرحال پی ٹی آئی کی طرف سے اب تک پنجاب کے حوالے سے کئے جانے والے فیصلے سیاسی اور انتظامی طور پر بڑے اہم قرار دئیے جا رہے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ اب پی ٹی آئی کس نوجوان کو پنجاب کا وزیراعلی نامزد کرتی ہے اور اسے عبوری وزیراعلی بناتی ہے یا پھر مستقل وزیراعلی۔ فیصلہ عبوری ہو یا مستقل اس وزیراعلی کو چودھری پرویز الٰہی اور چودھری سرور کی موجودگی میں معاملات چلانے میں بہت آسانی رہے گی۔ تجزیہ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved