نجی کمپنی نے دیوقامت پہیے جیسا خلائی اسٹیشن بنانے کا اعلان کردیا

نجی کمپنی نے دیوقامت پہیے جیسا خلائی اسٹیشن بنانے کا اعلان کردیا

امریکا (ویب ڈیسک ):امریکی کمپنی ’آربٹل اسمبلی کارپوریشن‘ نے زمین کے گرد مدار میں ایک بہت بڑے پہیے جیسے خلائی اسٹیشن کی تعمیر کا اعلان کردیا ہے جو اپنے محور پر چکر لگاتے دوران مصنوعی کششِ ثقل (آرٹی فیشل گریویٹی) بھی پیدا کرے گا۔ واضح رہے کہ میلوں پر پھیلے ہوئے دیوقامت پہیوں جیسے خلائی اڈوں کا تصور کم از کم 70 سال سے سائنس فکشن فلموں میں پیش کیا جارہا ہے۔ اس طرح کے تصوراتی خلائی اسٹیشن اپنے محور (axis) کے گرد چکر لگاتے ہیں جس سے ان کے بیرونی کناروں پر مرکز گریز قوت (سینٹری فیوگل فورس) پیدا ہوتی ہے جو اسٹیشن پر موجود ہر چیز کو باہر کی طرف دھکیلتی ہے۔ اس طرح سائنس فکشن فلموں کے خلائی اسٹیشنوں میں، جناتی ٹیوبوں جیسے بیرونی کناروں کے اندر، مصنوعی کششِ ثقل پیدا کی جاتی ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں انسانوں والی بستیاں آباد دکھائی جاتی ہیں۔ آربٹل اسمبلی کارپوریشن کا منصوبہ اسی خیال کو حقیقت کا جامہ پہنانے سے متعلق ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اس مجوزہ خلائی اسٹیشن کو ’’وائیجر کلاس اسپیس اسٹیشن‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس کی تعمیر کا آغاز 2025 سے بتدریج کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر مزید دس سے پندرہ سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔

 ہڈیوں میں نئے خلیے کی دریافت سے استخوانی علاج کی راہ کھلے گی

ہڈیوں میں نئے خلیے کی دریافت سے استخوانی علاج کی راہ کھلے گی

آسٹریلیا(ویب ڈیسک ): انسانی ڈھانچے میں بالکل نئی قسم کا خلیہ دریافت ہوا ہے۔ اسے سمجھتے ہوئے ہم گٹھیا، جوڑوں کے درد، ہڈیوں کی بریدگی اور دیگر بیماریوں کو نہ صرف بہتر طور پر سمجھ سکیں گے بلکہ ان کے علاج کی نئی راہ بھی ہموار ہوگی۔ آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز کے ماہرین نے خردبین سے انسانی ڈھانچوں کا ایک ایک حصہ دیکھا ہے۔ انہوں نے اس کاوش میں ہڈیوں میں موجود ایک خلیہ (سیل) دیکھا ہے جس سے سائنس اب تک ناواقف تھی۔ یہ خلیہ کئی طرح کے جین کھولتا اور بند کرتا ہے یعنی جینیاتی سطح تک سرگرم ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق سے ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کوجاننے اور اسے روکنے کے عمل کو سمجھنے میں بہت مدد ملے گی جن میں سرِ فہرست گٹھیا (اوسٹیوپوروسِس) کا مرض شامل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہیں کہ استخوانی فطری نشوونما میں خلیات پرانی ہڈیوں کو بریدہ کرتے ہیں اور نئی ہڈیوں کی افزائش ہوتی رہتی ہے۔ لیکن یہ توازن بگڑ جائے تو ہڈیاں نرم پڑجاتی ہیں اور کئی مرض لاحق ہوجاتے ہیں جن میں گٹھیا سرِ فہرست ہے۔ یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے ڈاکٹر مچیل مک ڈونلڈ اوران کے ساتھیوں نے ایک زندہ ہڈی کے

ریشم کے کیڑوں کی غذا میں تبدیلی سے مضبوط ریشم تیار

ریشم کے کیڑوں کی غذا میں تبدیلی سے مضبوط ریشم تیار

ٹوکیو: جاپانی سائنسدانوں نے ریشم کے کیڑوں کی غذا میں تبدیلی کرکے ان سے حاصل ہونے والے ریشم کو معمول سے دگنا مضبوط بنا لیا ہے۔ آن لائن ریسرچ جرنل ’’مٹیریلز اینڈ ڈیزائن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین نے ریشم کے کیڑوں کی غذا میں تجرباتی طور پر ’’سیلولوز نینوفائبر‘‘ (CNF) نامی مادّہ شامل کیا۔ ویسے تو ’’سی این ایف‘‘ کئی پودوں کے علاوہ لکڑی کی باقیات میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن توہوکو یونیورسٹی، جاپان کے ماہرین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ نینو سیلولوز فائبرز کو ریشم کے کیڑوں کی غذا میں کچھ ایسے شامل کیا جائے کہ ان سے بننے والا ریشم بھی زیادہ بہتر، پائیدار اور مضبوط ہو۔ قدرتی طور پر ریشم کے کیڑے شہتوت کے پتے کھا کر ریشم بناتے ہیں۔ تاہم تجارتی پیمانے پر پالے گئے ریشم کے کیڑوں کو کچھ مختلف غذا دی جاتی ہے جس کا انحصار ان سے حاصل ہونے والے ریشم کے معیار اور مطلوبہ خصوصیات پر ہوتا ہے۔ توہوکو یونیورسٹی، میاگی کے ماہرین سیلولوز نینوفائبرز کو ریشم کے کیڑوں کی تجارتی غذا میں شامل کیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ ریشم کے جن کیڑوں کی غذا میں سیلولوز نینوفائبرز شامل تھے، ان سے حاصل شدہ ریشم ایسے کیڑوں کے مقابلے میں دگنا مضبوط تھا جو شہتوت کے پتے کھاتے ہیں۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ ریشم کا استعمال کپڑوں کی تیاری کے علاوہ سرجری اور بیجوں کے غلاف بنانے سمیت، کئی طرح کے کاموں میں ہورہا ہے۔ جاپانی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کامیابی ادھوری ہے کیونکہ ان کا مقصد ایسے ریشم کی تیاری ہے جو پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ فولاد سے 5 گنا زیادہ مضبوط بھی ہو۔

 سام سنگ نے 50 میگا پکسل کیمرا سینسر پیش کردیا

سام سنگ نے 50 میگا پکسل کیمرا سینسر پیش کردیا

سیئول، کوریا: سام سنگ نے دنیا کا جدید ترین اسمارٹ فون کیمرا سینسر پیش کردیا ہے جس کی بدولت صارفین 50 میگاپکسل کی تصویریں کھینچ سکیں گے جبکہ اس سے 480 فریم فی سیکنڈ (480 ایف پی ایس) شرح والی فل ایچ ڈی ویڈیوز بھی بنائی جاسکیں گی۔ جنوبی کوریا کی مشہور ’’سام سنگ الیکٹرونکس‘‘ کے بنائے ہوئے اس نئے کیمرا سینسر کو ’’آئسوسیل جی این 2‘‘ (Iso Cell GN2) کا نام دیا گیا ہے جو اسمارٹ فون فوٹوگرافی/ ویڈیوگرافی کو ایک نئے انقلابی دور سے روشناس کرے گا۔ زیادہ صحیح الفاظ میں کہا جائے تو ایسے کیمروں کا پکچر ریزولیوشن 8,160 ضرب 6,144 پکسل (یعنی مجموعی طور پر 50 میگاپکسل سے بھی زیادہ) ہوگا۔ اس کے ذریعے 24 ایف پی آر پر ’’ایٹ کے‘‘ (8K) ریزولیوشن والی ویڈیوز بنائی جاسکیں گی۔ اگر آپ ’’سپر سلوموشن‘‘ کے قابل ویڈیوز بنانا چاہتے ہیں تو ان کیمروں کی مدد سے 480 ایف پی آر پر 1080 پی (ایچ ڈی) کوالٹی ویڈیو بنائی جاسکے گی۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو 480 ایف پی آر والی صرف ایک منٹ کی ویڈیو اگر ’’نارمل‘‘ یعنی 24 ایف پی آر کی رفتار سے چلائی جائے تو وہ 20 منٹ میں مکمل ہوگی۔ خصوصی انتظام کے تحت یہی کیمرا سینسر 100 ۔

ٹک ٹاک صارفین کو رازداری کی خلاف ورزی پر9 کروڑ 20 لاکھ ڈالر دینے کو تیار

ٹک ٹاک صارفین کو رازداری کی خلاف ورزی پر9 کروڑ 20 لاکھ ڈالر دینے کو تیار

الینوائے(ویب ڈیسک ): امریکا میں کمپنی کے خلاف درجنوں پرائیویسی کے مقدمات پر ٹِک ٹاک کی انتظامیہ نے 92 ملین ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی کئی ریاستوں میں پرائیویسی کی حفاظت نہ کرنے پر چین کی ویڈیو ایپ ’’ٹک ٹاک‘‘ پر درجنوں مقدمات کیے گئے تھے جس پر کمپنی نے ان تمام مقدمات کو ختم کرنے کے بدلے مجموعی طور پر 9 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا وعدہ کیا ہے۔ ٹک ٹاک انتظامیہ اور مقدمات کرنے والے صارفین کے درمیان قانونی چارہ جوئی میں 21 مقدمات واپس لینے پر اتفاق ہوا ہے جس کے بدلے کمپنی صارفین کو 92 ملین ڈالر ادا کرے گی۔ ریاست الینوائے کی وفاقی عدالت میں صارفین کے وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا کہ ٹک ٹاک صارفین کے نجی معلومات حاصل کرکے اشتہاری کمپنی کو فراہم کرتی ہے جو صارفین کے ڈیٹا کو دیکھتے ہوئے منافع بخش کاروباری سرگرمیاں کرتے ہیں۔ اس پر وفاقی عدالت نے فریقین کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے تصفیے کی منظوری دی اور ٹِک ٹاک کو کوائف جمع کرنے کے بارے میں زیادہ شفاف اور صارف کی رازداری کے بارے میں بہتر تربیت دینے والے ملازمین کو شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ صارفین کے وکلا کا کہنا تھا کہ اس تصفیے کا اطلاق امریکا میں 89 ملین ٹِک ٹاکرز پر بھی ہوسکتا ہے اور اگر یہ سب تصفیے کی رقم کے لیے دعویٰ دائر کریں تو سب کو 96 سینٹ مل سکتے ہیں تاہم یہ فیصلہ 21 مقدمات کے درخواست گزاروں کے حق میں ہے۔

آسٹریلیا میں بھیڑ کو 35 کلو اون کے بوجھ سے آزادی مل گئی

آسٹریلیا میں بھیڑ کو 35 کلو اون کے بوجھ سے آزادی مل گئی

سڈنی: آسٹریلیا کے ایک جنگلاتی علاقے سے 35 کلو وزنی اون سے لدی بھیڑ ملی تھی جو بہ مشکل ہی چل پارہی تھی تاہم ریسکیو ادارے کے اہلکاروں نے اسے تکلیف دہ بوجھ سے نجات دلا دی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کی ریاست وکٹورین کے جنگل سے باراک نامی بھیڑ ملی تھی جس کے جسم کی پانچ سال سے صفائی نہ ہونے کے باعث اون ایک ٹیلے کی شکل اختیار کرگئی تھی اور بھیڑ 35 کلو وزن لادے بہ مشکل چل پارہی تھی۔ خوش قسمتی سے اس بھیڑ کو جانوروں کی بہبود کے ایک ادارے کے اہلکاروں نے دیکھ لیا۔ بھیڑ کو ایڈگر مشن فارم سینکچوری نامی جانوروں کی پناہ گاہ لایا گیا۔ ماہرین حیران تھے کہ اتنا بوجھ ہونے کے باوجود اس کی ریڑھ کی ہڈی سلامت تھی۔ بھیڑ کو پورے جسم میں اون کا ڈھیر لگ جانے کے باعث نہ صرف چلنے پھرنے میں مشکلات کا سامنا تھا بلکہ وہ ٹھیک طرح کھا بھی نہیں سکتی تھی۔ اون کی زیادتی کے باعث گرم اور خشک موسم میں بھیڑ کا زندہ رہنا بھی کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ جانوروں کی پناہ گاہ کے ملازمین نے ’’باراک‘‘ کے جسم سے اون اتاری، اون کا وزن 35 کلو سے زیادہ تھا۔ بھیڑ نے اون کا بوجھ اترنے پر دوڑ لگائی اور جی بھر کر چارہ کھایا۔ واضح رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ اون رکھنے کا اعزاز کرس نامی بھیڑ کے پاس ہے جس کے جسم سے 41 کلو اون اتاری گئی تھی۔

اے ٹی ایم کارڈ کے بجائے اپنا چہرہ دکھا کر پیسے ادا کریں

اے ٹی ایم کارڈ کے بجائے اپنا چہرہ دکھا کر پیسے ادا کریں

سارہ سٹیورٹ لاس انجلیز میں قائم ایک چھوٹے سے میکسیکن ریستوران میں داخل ہوتی ہیں اور سینڈوچ کی ایک قسم ’ٹورٹا‘ کا آرڈر دیتی ہیں۔ رقم کی ادائیگی کے لیے وہ کیشیئر کے کاؤنٹر پر لگی ایک سکرین پر اپنے چہرے کا عکس دکھاتی ہیں۔ ٹِپ دینے کے لیے وہ جلدی سے سکرین کے سامنے انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتی ہیں۔ یوں کھانے کے عوض ادائیگی کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں پانچ سیکنڈ سے کم لگے ہیں اور یہ تمام عمل ’ کانٹیکٹ لیس‘ یعنی بغیر کسی چیز کو چھوئے مکمل ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ سارہ سٹیورٹ کو نہ تو اپنا موبائل فون اپنے پاس رکھنا پڑا اور نہ ہی کسی بینک کا کارڈ۔ اور نہ ہی کسی اور قسم کی شناخت کی چیز۔ ادائیگی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے انھیں اپنا پن نمبر بھی نہیں ڈالنا پڑا۔ تو جناب چہرے کی شناخت کے ذریعے ادائیگی کرنے والی مستقبل کی دنیا میں آپ کا خوش آمدید۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ کسی سائنس فکشن فلم کا سین لگے لیکن چین کے مختلف شہروں میں اس طرح کی ادائیگیاں دن میں لاکھوں مرتبہ پہلے ہی ہو رہی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو اب امریکہ اور دوسرے ممالک جیسے ڈنمارک اور نائجیریا میں متعارف بھی کرایا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم سب آیندہ چند برسوں ۔‘

درجنوں ڈرون کو ایک ساتھ اڑانے اور چارج کرنے والی چادر

درجنوں ڈرون کو ایک ساتھ اڑانے اور چارج کرنے والی چادر

پیسا، اٹلی(ویب ڈیسک ): چھوٹے اور رنگ برنگی روشنیوں والے ڈرون کے کرتب تماشے اب عام ہوچکےہیں۔ ایسے ڈرون بار بار بجلی مانگتے ہیں اور اب اٹلی کے انجینیئروں نے ایک ساتھ بہت سارے کواڈکاپٹرز جارچ کرنے والی چادر تیار کی ہے۔ اسے فلائنگ ڈرون بلینکٹ کا نام دیا گیا ہے جسے اطالوی کمپنی کارلو راٹی ایسوشیاٹی نے ڈرون ساز کمپنی فلائی فائر کے تعاون سے بنایا ہے۔ اس میں سے ہر ایک چادر کو سمیٹا اور ایک بیگ میں رکھا جاسکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انہیں کھول کر دوبارہ زمین پر بچھایا جاسکتا ہے۔ ایک وقت میں 16 کواڈ کاپٹرز بہت آسانی سے اس پر چارج کئے جاسکتے ہیں اور تمام ڈرونز ایک ہی پاور سپلائی سے چارج ہوسکتے ہیں۔ اگر ڈرون زیادہ ہے تو ایک ، دو ، تین یا اس سے زائد چادر ایک ساتھ جوڑ کر لاتعداد ڈرون کو ان پر بٹھایا جاسکتا ہے ۔ اس طرح ایک وقت میں دس ہزار ڈرون کو چارج کرنا ممکن ہے۔ ہر ڈرون 45 درجے زاویے پر گھومتا ہے اورچارجنگ کےلیے دوبارہ 45 درجے پر ہی چادر پر اترتا ہے۔ اس کا خاص ڈیزائن روشنی دینے والے ڈرون کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ ڈرون ایک ساتھ فضا میں اڑتے ہیں اور طرح طرح کی خوبصورت ڈیزائن بناتے ہیں۔ انہیں لائٹ شوز اور اشتہار کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کھیل تماشوں سے ہٹ کر اب بہت سارے ڈرون نقشہ سازی، فصلوں کی دیکھ بھال اور دیگرامور میں بھی استعمال ہورہے ۔ ڈرون چادر اس ضمن میں بھی یکساں طور پر مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

گوگل نے انٹرنیٹ کیبل سے زلزلوں کی پیمائش شروع کردی

گوگل نے انٹرنیٹ کیبل سے زلزلوں کی پیمائش شروع کردی

کیلیفورنیا(ویب ڈیسک ): گوگل نے عالمی سمندروں کے فرش پر بچھی ہزاروں کلومیٹر طویل انٹرنیٹ کیبل کو کامیابی سے زلزلہ پیما کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح ہزاروں کلومیٹر طویل رقبے پر پھیلے ہوئے تارکو زلزلہ پیما بنایا جاسکتا ہے۔ بحرالکاہل کے تہہ میں گوگل نے جدید ترین انٹرنیٹ کیبل کچھ عرصے قبل ہی بچھائی تھی۔ سمندری لہروں کی ہلچل اور دیگر تبدیلیوں کی وجہ سے یہ بہت درستگی سے زلزلوں کی پیمائش کرسکتی ہے۔ اس ضمن میں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر زونگ وین زان اور گوگل کے ماہرین نے ٹریفک ڈیٹا، کیبل کی حرکات اور دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے سمندری طوفان اور زلزلوں کو شناخت کیا ہے۔ صرف نو ماہ کے دوران کیبل نے 30 سمندری طوفانوں اور 20 کے قریب زلزلوں کو کامیابی سے شناخت کیا ہے۔ سارے زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5 تھی جو زمین پر عمارتیں ڈھانے کے لیے بہت ہوتے ہیں۔ لیکن جون 2020 میں میکسکو کے قریب 7.4 ۔

گوگل کے اسمارٹ فون نے حادثے کا شکار ہونے والے شخص کی جان بچالی۔

گوگل کے اسمارٹ فون نے حادثے کا شکار ہونے والے شخص کی جان بچالی۔

سوشل میڈیا پر چک والکر نامی امریکی شہری نے اپنی پوسٹ میں خود کے ساتھ پیش آیا واقعہ بیان کیا ہے جس میں ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کی جان بچائی گئی۔ والکر کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ سال نومبر میں امریکی ریاست میسوری میں پیش آیا جہاں وہ اپنی زمین پر کام کرتے ہوئے بوب کیٹ لوڈر سمیت کھائی میں جاگرے۔ انہوں نے بتایا کہ کھائی میں گرجانے کے باعث ایمرجنسی اخراج بھی مکمل طور پر بند ہوگیا تھا جبکہ اس دوران ان کی پسلیاں بھی ٹوٹ چکی تھیں اور بے ہوش ہوچکا تھا لیکن گوگل فون کی ’کار کریش ڈیٹیکشن‘ فیچر نے خودکار نظام کے تحت ریسکیو کو کال کی۔ والکر کے مطابق حادثے کے فوری بعد جب حواس بحال ہوئے تو میرے کان میں لگے بلیو ٹوتھ میں ریسکیو کال سینٹر سے نمائندہ بات کررہا تھا اور اس نے بتایا کہ ہم نے آپ کے حادثے کے مقام کا تعین کرکے ریسکیو سروس کو بھیج دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند منٹوں بعد ہی ریسکیو حکام میرے پاس مدد کیلئے پہنچ گئے تھے اور یوں ایک فیچر کو آن رکھنے سے میری جان بچ گئی۔

نئی پرائیویسی پالیسی: کیا 15 مئی کے بعد بھی واٹس ایپ پر میسج مل پائیں گے؟

نئی پرائیویسی پالیسی: کیا 15 مئی کے بعد بھی واٹس ایپ پر میسج مل پائیں گے؟

اگر بطور واٹس ایپ صارف آپ نے نئی پرائیویسی پالیسی کو ابھی تک قبول نہیں کیا ہے تو بری خبر یہ ہے کہ آپ 15 مئی کے بعد واٹس ایپ کے پیغامات کو نہ پڑھ پائیں گے اور نہ اپنے پیاروں کو واٹس ایپ کے ذریعے کوئی پیغام بھیج سکیں گے۔ ٹیک کرنچ کے مطابق جو صارفین واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی کو قبول کرنے کے حامی نہیں ان صارفین کا واٹس ایپ اکاؤنٹ 15 مئی کے بعد عارضی بند کر دیا جائے گا جس کے مزید 120 دن بعد اسے مکمل طور پر ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ امریکی اخبار کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی قبول نہ کرنے والے صارفین کو ڈیڈلائن گزرجانے کے بعد مختصر عرصے(شاید کچھ ہفتوں ) کے لیے کال اور نوٹیفکیشن کی سہولت میسر ہوگی۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس واٹس ایپ کی جانب سے صارفین کی معلومات تھرڈ پارٹی بشمول فیس بک کے ساتھ شیئر کیے جانے کے اعلان کے بعد سے صارفین کی بڑی تعداد واٹس ایپ کی متبادل ایپس کی طرف رخ کررہی ہے۔ علاوہ ازیں واٹس ایپ انتظامیہ نے اپنی وضاحت میں دعویٰ کیا ہے کہ کوئی بھی شخص صارفین کے پیغامات نہیں پڑھ سکتا، نئی پرائیویسی پالیسی کا مقصد اداروں کی ادائیگیوں کو فعال کرنا ہے۔

گیمنگ لیپ ٹاپس بائینگ گائیڈ

گیمنگ لیپ ٹاپس بائینگ گائیڈ

گیمنگ لیپ ٹاپس کی کچھ خصوصیات ہوتی ہے جن کی بیسس پر انہیں جج کیا جاتا ہے کہ وہ کتنا عرصہ ساتھ نبھائیں گے۔یہ کچھ چند ایک فیچرز ہوتے ہیں جو آپ کو خریدنے سے پہلے کونسیڈر کرنے چاہیے،پھر چاہے وہ کوئی گیمنگ لیپ ٹاپس ہو۔اب پہلے ایک طرح کی طرح نہیں ہوتا کہ ایک ہی کمپیوٹر میں آپ کام بھی کریں،گیم بھی کھیلیں،گانے بھی سنے،اور براؤزنگ بھی کریں۔ آئیے دیکھیں کہ وہ کونسے فیچرز ہیں جو ہمیں ایک گیمنگ لیپ ٹاپ خریدنے سے پہلے کونسیڈر کرنے چاہیے۔ویسے تو ہمیں سب سے پہلے لیپ ٹاپ کا پروسیس اور بیٹری لائف دیکھنی چاہیے لیکن شروعات ہم بالکل بیسک فیچرز سے کریں گے،جو ہے کیز اور ماؤس۔ کیز اور ماؤس گیمنگ لیپ ٹاپ کی کیز اور ماؤس زیادہ ڈیورایبل رکھے جاتے ہیں تاکہ وقت سے پہلے خراب نہ ہو۔ جب آپ ورک لیپ ٹاپ پر گیمز کھیلتے ہیں تو آپ نے نوٹس کیا ہو گا کہ اُس لیپ ٹاپ کی کیز یا ماؤس اکثر خراب ہو جاتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ وہ لیپ ٹاپس گیمنگ کے لیے بنائے نہیں ہیں۔جو لیپ ٹاپس گیمنگ کے لئے بنائے جاتے ہیں،اُن کو ایکسپرٹس اس طرح سے ڈیزائن کرتے ہیں کہ اُن کی کیز اور ماؤس سینسی ٹیوٹی رف یوزکے لئے بھی تیار ہو۔پھر چاہے آپ اپنے اوپونینٹ کو ملٹی پل کیز پریسس سے گولی مار مار کر اُڑائے یا پنچ،کک اور نی سے سٹرایکس،یہ کیز آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتیں!

او ایل ای ڈی ڈسپلے اور فائیو جی کے ساتھ ایپل نے آئی فون 12 اور 12 منی متعارف کرا دئیے

او ایل ای ڈی ڈسپلے اور فائیو جی کے ساتھ ایپل نے آئی فون 12 اور 12 منی متعارف کرا دئیے

ایپل نے ایک تقریب میں آئی فون 12 اور آئی فون 12 منی متعارف کرا دئیے۔ ان دونوں میں ایپل نے کچھ ایسے فیچر متعارف کرائے ہیں، جو پریمیم صارفین کے لیے مخصوص ہیں۔ ایپل آئی فون 12 (Apple iPhone 12) میں ایپل نے پچھلی ماڈل کے آئی پی ایس ایل سی ڈی ڈسپلے کو سپر ایکس ڈی آر او ایل ای ڈی ڈسپلے سے تبدیل کیا ہے۔اس فون کا سائز 6.1 انچ ہے اور اس کی ریزولوشن بھی پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر یعنی 2532x1170 پکسل (460 پکسلز فی انچ) ہے۔اس فون کا ڈسپلے بھی پرو ماڈل کی طرح زیادہ سے زیادہ 1200 nits تک روشن ہو سکتا ہے۔اس کی سکرین کا سٹینڈرڈ ریفریش ریٹ 60 ہرٹز ہے اور اس میں پہلے کی طرح نوچ بھی ہے۔اس فون کے ڈسپلے کی حفاظت کے لیے ایپل نے گوریلا گلاس بنانے والی کمپنی کورننگ کے ساتھ مل کر سرامک شیلڈ بنائی ہے۔ایپل کا کہنا ہے کہ سرامک شیلڈ کی ڈراپ پرفارمنس 4 گنا بہتر ہے اور یہ کسی بھی سمارٹ فون کے گلاس سے زیادہ سخت ہے۔ایپل نے امریکا میں اس فون میں mmWave کی سپورٹ شامل کی ہے تاہم بڑے پیمانے پر اس میں sub-6GHz 5G کی سپورٹ بھی شامل ہے۔ایپل نےاس فون کی سپیڈ کو 100 کیرئیرز پر چیک کیا ہے کمپنی کا کہنا ہے کہ کنٹرولڈ انوائرمنٹ میں یہ فون 3.5 جی بی پی ایس اور بہترین حالات میں 4 جی بی پی ایس تک کی ڈاؤن لوڈ سپیڈ فراہم کر سکتا ہے۔آئی فون 12 پچھلے آئی فون11 کےمقابلے میں 11 فیصد پتلا، 16 فیصد ہلکا اور حجم میں 15 فیصد چھوٹا ہے۔آئی فون 11 کی آئی فون 12 بھی بہت سے رنگوں میں پیش کیا گیا ہے۔نئے رنگوں میں نیلا، سبز، پراڈکٹ ریڈ، سفید اور سیاہ شامل ہیں۔توقع کے مطابق آئی فون 12 میں ایپل کا اے 14 بائیونک چپ سیٹ شامل

ایپل نے بہتر ساؤنڈ اور سری سمارٹ کے ساتھ 99 ڈالر کا ہوم پیڈ منی پیش کر دی

ایپل نے بہتر ساؤنڈ اور سری سمارٹ کے ساتھ 99 ڈالر کا ہوم پیڈ منی پیش کر دی

ایپل نے 3.3 انچ اونچا ہوم پیڈ منی پیش کر دیا۔ ایپل نے اس نئے سمارٹ سپیکر کو سمارٹ بلٹ ان سری سمارٹ کو متعارف کرایا ہے۔یہ ڈیوائس آپ کے سمارٹ ہوم کو کنٹرول کر سکتی ہے اور خود کار طور پر ہوم ایپ سے مربوط ہو سکتی ہے۔ہوم پیڈ منی میں شامل سری آپ کے گھر کے ہر فرد کی آواز کو شناخت کر سکتی ہے اور آپ کے فون کی آئی فون ایپس تک رسائی کر سکتی ہے یا پیغامات بھیج سکتی ہے۔ یہ آپ کو ذاتی اپ ڈیٹس بھی فراہم کر سکتی ہے۔ہوم پیڈ منی کا انٹرکام دوسرے کمروں میں رکھے دوسرے ہوم پیڈ منی کو بھی میسج بھجوا سکتا ہے۔یہ دوسری ایپل ڈیوائس اور سروس پر بھی کام کرتا ہے۔ یہ میسج ہوم پیڈ منی اور ائیر پوڈز پر پر آٹو پلے ہو سکتے ہیں جبکہ دوسری ڈیوائسز جیسے آئی فونز اور کار پلے اس طرح کے میسج کے نوٹی فیکیشن ملتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح ایپل نے ہوم پیڈ منی میں بھی پرائیویسی کا خیال رکھا ہے۔ کمپنی آپ کی آڈیو صرف

او ایل ای ڈی ڈسپلے اور فائیو جی کے ساتھ ایپل نے آئی فون 12 اور 12 منی متعارف کرا دئیے

او ایل ای ڈی ڈسپلے اور فائیو جی کے ساتھ ایپل نے آئی فون 12 اور 12 منی متعارف کرا دئیے

ایپل نے ایک تقریب میں آئی فون 12 اور آئی فون 12 منی متعارف کرا دئیے۔ ان دونوں میں ایپل نے کچھ ایسے فیچر متعارف کرائے ہیں، جو پریمیم صارفین کے لیے مخصوص ہیں۔ ایپل آئی فون 12 ایپل آئی فون 12 (Apple iPhone 12) میں ایپل نے پچھلی ماڈل کے آئی پی ایس ایل سی ڈی ڈسپلے کو سپر ایکس ڈی آر او ایل ای ڈی ڈسپلے سے تبدیل کیا ہے۔اس فون کا سائز 6.1 انچ ہے اور اس کی ریزولوشن بھی پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر یعنی 2532x1170 پکسل (460 پکسلز فی انچ) ہے۔ اس فون کا ڈسپلے بھی پرو ماڈل کی طرح زیادہ سے زیادہ 1200 nits تک روشن ہو سکتا ہے۔اس کی سکرین کا سٹینڈرڈ ریفریش ریٹ 60 ہرٹز ہے اور اس میں پہلے کی طرح نوچ بھی ہے۔اس فون کے ڈسپلے کی حفاظت کے لیے ایپل نے گوریلا گلاس بنانے والی کمپنی کورننگ کے ساتھ مل کر سرامک شیلڈ بنائی ہے۔ ایپل کا کہنا ہے کہ سرامک شیلڈ کی ڈراپ پرفارمنس 4 گنا بہتر ہے اور یہ کسی بھی سمارٹ فون کے گلاس سے زیادہ سخت ہے۔