تازہ ترین  
جمعرات‬‮   15   ‬‮نومبر‬‮   2018

پاکستان کی نئی نجی ائیرلائن لبرٹی ائیر کا مالک کون؟ نام سامنے آ گیا


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی نئی نجی ایئر لائن لبرٹی ایئر کے مالک کا نام سامنے آگیا، سابق سٹی ناظم لاہور، دنیا میڈیا گروپ، پنجاب کالج اور کئی یونیورسٹیوں کے مالک میاں عامر محمود ہی لبرٹی ائیر کے مالک بھی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وفاقی حکومت نے لبرٹی ایئر نامی نئی نجی ایئر لائن کو لائسنس جاری کرنے کی منظوری دے دی

تھی۔ نجی ایئرلائن کو لائسنس جاری کرنے کی منظوری وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ نے دی تھی۔ پاکستان میں نئی نجی ائیرلائن کی آمد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر عوام نے بھی ردعمل دیا۔ جہاں بیشتر لوگوں نے پاکستان میں ایک نئی نجی ائیرلائن کی آمد کی خبر کو مثبت قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا، وہی اس ائیرلائن کے حوالے سے کچھ سوالات بھی کیے گئے۔ سب سے زیادہ پوچھے جانے والا سوال ائیرلائن کے مالک کے حوالے سے کیا گیا۔ پاکستان میں کام کرنے والی نجی ائیرلائن اپنے مالکان کے حوالے سے ہمیشہ سے ہی باعث بحث رہی ہیں۔ اب لوگوں میں لبرٹی ائیرلائن کے مالک کی معلومات سے متعلق بھی تجسس پایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ہمارے ذرائع نے معلومات حاصل کر لی ہیں۔ سابق سٹی ناظم لاہور، دنیا میڈیا گروپ، پنجاب کالج اور کئی یونیورسٹیوں کے مالک میاں عامر محمود ہی نئی نجی ائیرلائن لبرٹی ائیر کے مالک ہیں۔ میاں عامر محمود ماضی میں 8 سال تک پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے ناظم رہ چکے ہیں۔ اس دوران لاہور شہر نے خاصی ترقی دیکھی۔ جبکہ میاں عامر محمود نے کاروباری

شخصیت کے طور پر بھی گزشتہ کچھ سالوں کے دوران خاصا نام کمایا ہے۔ میاں عامر محمود اس وقت کئی بڑے کاروباری گروپس کے مالک ہیں۔ ان گروپس میں دنیا میڈیا گروپ، پنجاب کالجز، پنجاب لاء کالج، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب اور الائیڈ سکول شامل ہیں۔ اب میاں عامر محمود نے ہوا بازی کے کاروباری میں بھی حصہ ڈال لیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ لبرٹی ائیرلائن ایک بہتر فضائی کمپنی ثابت ہوگی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت مزید 3 نجی فضائی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں سیرینے ائیر، ائیر بلیو اور شاہین ائیرلائن شامل ہیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved