سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے استعفیٰ کیوں دیا ؟ نہ کوئی کوئی بیرونی مشن نہ ہی کوئی اور وجہ ۔۔ اندر کی شرمناک بات تو اب پتہ لگی ۔۔سینئر صحافی روئ
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     پاکستان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی ر ؤوف کلاسرا نے کہا کہ ایک پروپوزل بورڈ آف گورنر میں گیا تھا جس میں ان کو بتایا گیا کہ ہم نے ایم آئی یو اور تمام تفصیلات طے کرنے کے بعد پی آئی اے کے جہاز کے لیے 47000یورو پر ڈیل کر لی ہے۔جس پر بورڈ نے اعتراض اٹھایا کہ آپ نے کس طرح جہاز بیچ دیا؟ پتہ چلا کہ یہ جہاز 1982ء میں خریدا گیا تھا اور اس کی فلائنگ ایکج ستائیس سال تھی ۔ انہوں نے سوچا کہ فلائنگ ایج ختم ہونے سے قبل اس جہاز کو بیچ دیا جائے۔رؤوف کلاسرا نے بتایا کہ پی آئی اے کے جہاز کے لیے مالٹا سے ایک فلم ساز کمپنی نے رابطہ کیا اور کہا کہ ہم نے فلم بنانی ہے جس کے لیے پی آئی اے کو جہاز کے استعمال کے عوض پیسے بھی ملے ۔ بورڈ نے سوال اٹھایا کہ اس پروپوزل کا آغاز کس نے کیا تھا؟جس پر پی آئی اے کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس پروپوزل کا آغاز اے آر کموڈور عمران اختر نے کیا جو کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل رضوان اخترکے بھائی ہیں ۔لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے

قبل از وقت استعفیٰ دیا اور کہا تھا کہ میری کچھ ذاتی وجوہات ہیں جن کی بنا پر میں استعفیٰ دے رہا ہوں۔ ممکنہ طور پر ان کے استعفے کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ رؤوف کلاسرانے بتایا کہ عمران اخترپاکستان ائیر فورس سے پی آئی اے میں گئے تھے۔ اس پروپوزل کا آغاز انہوں نے 27 اکتوبر 2016ء کو کیا گیا۔جس کے تحت پی آئی اے کے جہاز کی قیمت 47,500یوروز لگائی گئی۔ پی آئی اے کی انکوائری کے مطابق ایکٹنگ ایم ڈی مسٹر برننڈ نے 29 اکتوبر کو اس پروپوزل کی منظوری دی۔ جس کے ایک ماہ کے بعد جہاز کی فروخت کی ڈیڈ مکمل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے اس ضمن میں پی آئی اے کے سینئیر آفیشل سے بات کرنا چاہی تو انہوں نے کہا کہ جہاز ابھی فروخت نہیں کیا گیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
42%
ٹھیک ہے
25%
کوئی رائے نہیں
17%
پسند ںہیں آئی
17%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved