نوازشریف اور عمران خان دونوں ہی لاڈلے ہیں لیکن ان دونوں میں سے اس کی قسمت بڑی خراب ہے کیونکہ۔۔سینئر ملکی سیاستدان
  12  جنوری‬‮  2018     |     پاکستان

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد کا ساتھ نہیں دیا البتہ آج جمہوریت کو خطرات درپیش ہیں اور بلوچستان اسمبلی میں پیش آنے والی موجودہ صورتحال اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک پہلے ہی اسمبلی توڑنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سندھ میں بھی اسمبلی ٹوٹنے کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ 126روزہ دھرنے کے دوران جب امپائر نے انگلی نہیں اٹھائی تو عمران خان پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر راضی ہوگئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچاخان مرکز میں اے این پی ضلع پشاور کے زیراہتمام میاں مشتاق شہید، گل رحمان کاکا اور ندیم شہید کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے بھی اس موقع پر خطاب کیا جبکہ صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ، ہارون بشیر بلور اور دیگر رہنماء تقریب میں موجود تھے۔ میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں میاں مشتاق احمد شہید اور ان کے ساتھیوں کی زندگیوں پر روشنی ڈالی اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا، انہوں نے کہا کہ اے این پی کی تاریخ قربانیوں نے بھری پڑی ہے اور آج کے اس عظیم دن پر یہ عزم کرنا ہوگا کہ

سب کو مل کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا جیسی دنیا کی عظیم ہستی نے جنم لیا ،اور اپنی زندگی مخلوق خدا کی خدمت کیلئے وقف کئے رکھی ، انہوں نے دنیا بھر میں پختونوں کو ایک شناخت دی اور ان کا نام روشن کیا جبکہ اپنی سوچ فکر اور عدم تشدد کے فلسفے کے ذریعے برداشت کا علم دیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان بابا نے پختونوں کو ایک ایسی جِلا بخشی کہ وہ اتحاد و اتفاق کی مثال بنے اور یہی وجہ تھی کہ انتہائی کم عرصہ میں ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا،انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کا فلسفہ بلا شبہ محرومیوں کا علاج گردانا جاتا تھا ،لہٰذا پختونوں کو صورتحال کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے ،باچا خان بابا کے فلسفے میں تعلیم کا فروغ اولیں ترجیح تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ امن و محبت کا پرچار اور دشمنیوں کا خاتمہ تھا ، انہوں نے زندگی بھر پختونوں کے اتحاد و اتفاق کیلئے کوششیں کیں جبکہ خدائی خدمت گاری کو اپناتے ہوئے ہمیشہ اللہ کی رضا کیلئے مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ اسی لئے دیا کہ ماضی میں پختونوں کی تاریخ میں لڑائی جھگڑوں اور بزور طاقت حکمرانی کی جاتی رہی لہٰذا باچا خان نے قوم میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلم کا سہارا لیا ، اسی طرح جو اقتصادی نظام باچا خان نے دیا اس میں سماجی انصاف بنیادی نکتہ تھا تاکہ سب کو برابری کی بنیاد پر حق ملنا چاہئے،انہوں نے کہا کہ ولی خان جمہوریت کے علمبردار تھے اور اگر جمہوریت سے خان عبدالولی خان کا نام نکال دیا جائے تو ملک میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا،میاں افتخار حسین نے کہاکہ اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور جمہوریت کے خلاف سازش کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو سمجھ جانا چاہئے کہ ان کی قسمت میں وزارت عظمیٰ ہے ہی نہیں۔ تمام اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل نواز شریف اور عمران خان دونوں ہی لاڈلے ہیں اب ایک لاڈلا پرانا ہو چکا ہے اس لئے نیا لاڈلا بنا لیا گیا ہے ، تاہم وزرت عظمی مذاق نہیں جو انہیں طشتری میں رکھ کر پیش کر دی جائے۔خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری تک خطے میں امن کے قیام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، خطے کو درپیش جیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں پختون بیلٹ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں ، لہٰذا اب بہت خون بہہ چکا ہے اور اس کے تدارک کیلئے عالمی سطح پر کوششیں کرنا ہونگی، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیںخارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاورز کے مفاد کی بجائے قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ری وزٹ کریں ، اور دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان اور افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوئی راہ نکالی جائے کیونکہ افغانستان سے اچھے تعلقات خود پاکستان کے مفاد میں ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved