قدرت کا انتقام ۔۔ میر ہزار خان بجارانی کے حکم پر ایک غریب لڑکی کو کس قیامت ڈھا دینے والے ظلم کا نشانہ بنایا گیا تھا؟میر ہزار خان بجارانی اور ا
  5  فروری‬‮  2018     |     پاکستان

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلزپارٹی رہنما میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی اندوہناک موت کے معاملے پر ان کے صاحبزادے نے اس قتل کو سازش قرار د ے کر معاملےمیں نئی سنگینی پیدا کر دی ہے۔انھوںنے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی غیر جانبدارانہ اور کڑی تحقیقات کراتے ہوئے اس واقعےکے ہر پہلو کو باریک بینی سے دیکھا جائے۔ تاہم میر ہزار خان بجارانی کی موت سے قبل پیش آئے ایک واقعے نے ایک نئی ہی صورتحال پیدا کر دی ہے۔نامور ادیب پروفیسر انوار احمد نے لکھا،” کسی کی بھی وفات افسوس ناک ہے مگر انہی کی صدارت میں ایک جرگہ ہوا تھا جس میں “کاری”قرار دی جانے والی لڑکی کو ٹریکٹر ٹرالی کے پھل سے

ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا۔ میر ہزار خان بجارانی اس بہیمانہ فیصلے میں شامل تھے یا نہیں، ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے کیونکہ ایسے معاملات کبھی رجسٹر نہیں ہوتے۔ ہمارا مقصد دنیا سے اٹھ جانے والے پر کیچڑ اچھالنا بھی نہیں ہے بس اتنا سوچنا ہے کہ فیوڈل ولایت سے تعلیم پانے کے بعد بھی فیوڈل کیوں رہتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ایسا سوال کیا جانا ہی حماقت ہے۔ ولایت میں تعلیم حاصل کرنا کوئی ماہیت قلبی کا عمل نہیں ہوتا۔ پھر چند سال جمہوری معاشروں میں رہ کر آپ جمہوریت سے وابستہ اپنے مفادات ہی سمجھ سکتے ہیں۔ دوسروں کے مفادات سے صرف نظر کیا جانا آسان ہوتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved