خیبر پختونخوا کے انتہائی جانے مانے رکن اسمبلی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے۔۔نواز لیگ نے ان کی بہن بارے بھی بڑا فیصلہ کر لیا۔۔مخالفین دم بخود ر
  9  فروری‬‮  2018     |     پاکستان

ہری پور(مانیٹرنگ ڈیسک) خادم ہری پور قومی وطن پارٹی کے ایم پی اے گوہر نواز خان مسلم لیگ ن میں شامل، بہن کو مخصوص نشست پر سینیٹر بنائے جانے کا امکان، بھتیجا بابر نواز خان پہلے سے ہی ایم این اے مسلم لیگ ن اور انسانی حقوق کمیٹی کا چیرمین ہے ہری پور میں ن لیگ اور مضبوط ہو گی تین مرتبہ اپنے حلقہ سے منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اپنے شہید بھائی سابق وزیر اختر نواز خان کے قتل کے بعد خالی ہونے پر والی حلقہ پے کے باون کی نشست پر پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو ئے تھے ہری پور میں پی کے 51 سے منتخب ایم پی اے گوہرنواذ کی پء ایم ایل این میں شامل ہونے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں اس سے قبل گوہرنواز خان عوامی نیشنل پارٹی میں بھی رہے جبکہ 2013 کے الیکشن میں گوہرنوازخان نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور جیت کرQWP میں شامل ہوئے اود PTI اورQWP کی مشترکہ حکومت میاورQWP کی مشترکہ حکومت میں حکومتی سیٹوں پر بیٹھے

رہے ہری پور میں انکے بھتیجے ایم این اے بابر نوازخان نے ریکارڈ ووٹ لئے اور میاں نواز شریف کے جلسہ کے بعد گوہر نواز خان کے دل میں PMLN کیلئے نرم گوشہ پیدا ہوا اور اب گوہرنوازکی جانب سے نواز لیگ میں شامل ہونے کیلیے خواہش پیداہوچکی ہے اور زرائع کیجانب سے دعوی کیاگیا ہے کہ سابق وزیر اعلی پیر صابر شاہ کو سنیٹر بنانے کے کیے پارٹی کی اعلی قیادت نے گرین سگنل دے دیا ہے نواز لیگ میں دیگر ہزارہ کی اہم شخصیات کا بھی شامل ہونے کا امکان ہے دیگر مقامی سیاستدان ن میں شامل ہونے کیلیے خواہش پیداہوچکی ہے اور زرائع کیجانب سے کہا گیا ہے کہ پیر صابر شاہ کو سنیٹر کا ٹکٹ ملنے کے بعدپے کے 52 اور 51 کے علاقے تقریبا ضم ہونے سے اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد کھلابٹ غازی ایک حلقہ بن جائے گا جس سے گوہرنواز کے پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی کے وزیر فیصل زمان کے درمیان مستقبل میں کانٹہ دار مقابلہ بھی متوقع ہو گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
86%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
14%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved