عام انتخابات میں اوکاڑہ سے حصہ لینے والی’’ نایاب علی ‘‘ کون انکی تعلیم کتنی ہے؟ پاکستانی کی پہلی خواجہ سراء امیدوار نے تمام سیاسی جماعتوں
  14  مئی‬‮  2018     |     پاکستان

اوکاڑہ ( ویب ڈیسک ) کچھ محروم طبقے ایسے ہیں جن کی فلاح و بہبود اور اُن کو معاشرے میں جائزہ حقوق دلوانے کے لئے سیاستدان وعدوں کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔اس صورت حال کے پیش نظر 2018ء کے انتخابات میں خواجہ سرا کمیونٹی اور دیگر طبقوں کو اُن کے آئینی حقوق دلوانے کے لئے ضلع اوکاڑہ سے خواجہ سرا نایاب علی نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 142 سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔نایاب علی کا کہنا ہے کہ اُن کے الیکشن میں حصہ لینے کا مقصد خواجہ سرا کمیونٹی کی موجودگی کا احساس دلانا ہے۔ اَن پڑھ اور معاشی طور پر پسماندہ اِس طبقہ کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔’میں نے خود کو سیاست سے دور رکھتے ہوئے ہمیشہ اِس کمیونٹی کا فلاح بہبود کے لئے کام کرنے کی کوشش کی لیکن اِس کے باوجود ہماری اِن کوششوں کو سنجیدہ لینے کی بجائے تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔’خواتین، خواجہ سراؤں اور اقلیتوں کے حقوق کے متعلق موثر قانون سازی کی

جانی چاہیے۔ اِن طبقوں کو حقوق تو دئیے جاتے ہیں لیکن صرف قانون بنانے کی حد تک ہی سب سے بڑا مسئلہ اِن پر عمل درآمد کروانا ہے جس کے لئے کسی بھی حکومت نے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ”نایاب علی“خود مجھے پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی (باٹنی) کرنے کے باوجود ابھی تک ملازمت نہیں مل سکی۔’میں پہلے بھی مقامی طور پر خواجہ سرا کمیونٹی کی تعلیم، روزگار اور فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہوں اب میں ملکی سطح پر کرنا چاہتی ہوں۔’سیاستدان عوام کے بنیادی حقوق صحت، تعلیم اور روزگار فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔میرا الیکشن میں حصہ لینے کا مقصد عورتوں، معذور افراد، اقلیتوں اور خواجہ سراؤں سمیت ہر محروم طبقہ کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔اِس حلقے کے بہت سے لوگوں نے میرے الیکشن میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی ہے اسی لیے میں قومی اسمبلی کے اِس شہری حلقے این اے 142 سے الیکشن لڑنے کااعلان کیا ہے۔اِس حلقے کی زیادہ تر آبادی شہری ہے اس لئے مجھے امید ہے کہ یہاں کے باشعور عوام تمام تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مجھے سپورٹ کریں گے۔سیاست اور سماج کے تعلق کے بارے میں نایاب علی کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ملک کے ہر ادارے کو آزاد اور خودمختار ہونا چاہئیے بلکہ اُن کو اپنے اپنے علاقے کے حساب سے قانون سازی کا بھی اختیار ہونا چاہیئے۔ ”نایاب علی“ اچھا اور خوش حال سماج ہی ووٹ کے ذریعے ایسے نمائندوں کو منتخب کرنا ہے جو نہ صرف اپنے حلقے بلکہ اپنے ملک کی ترقی کے لیے بھی کاوشیںکرتے ہیں۔الیکشن جیت کر میں تمام دیہی اور شہری علاقوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خاتمے کی بھی بھرپور مہم چلاؤں گی۔نایاب علی کا کہنا ہے کہ تعلیم، بے روزگاری اور صحت ملک کے بنیادی مسائل ہیں۔خواتین، خواجہ سراؤں اور اقلیتوں کے حقوق کے متعلق موثر قانون سازی کی جانی چاہیے۔ اِن طبقوں کو حقوق تو دئیے جاتے ہیں لیکن صرف قانون بنانے کی حد تک ہی سب سے بڑا مسئلہ اِن پر عمل درآمد کروانا ہے جس کے لئے کسی بھی حکومت نے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔خواتین اور معذوروں کی ملازمتوں کا کوٹہ ہو یا مزدوروں کی ماہانہ تنخواہ ہر بجٹ میں اعلان تو کر دیا جاتا ہے لیکن اُن کو یہ حق نہیں مل پاتا۔مقامی حکومتوں کے حقوق کے متعلق نایاب علی کہتی ہیں کہ ملک کے ہر ادارے کو آزاد اور خودمختار ہونا چاہئیے۔خصوصاً مقامی حکومتوں جن کا کام ہی وہاں کی عوام کی مقامی مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے مکمل طور پر آزاد ہونا چاہیے بلکہ اُن کو اپنے اپنے علاقے کے حساب سے قانون سازی کا بھی اختیار ہونا چاہیئے۔ہر یونین کونسل اور حلقے کی بنیاد پر پارک اور سپورٹس کلب ہونا ضروری ہیں تاکہ لوگوں کو صحتمندانہ سرگرمیوں کے مواقع مقامی طور پر میسر آئیں۔تعلیم اور صحت کے ساتھ ساتھ حکومت کو اِن کے لئے بھی فنڈز مختص کرنا چاہیئے اور اِن فنڈز کا ہر بجٹ میں تسلسل ہی ایسے میدانوں کو آباد رکھ سکتا ہے۔اگر میں الیکشن میں جیت گئی تو روزانہ کی بنیاد پر اپنے حلقے کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا کروں گی۔سیاستدانوں کو اپنے حلقے کے مسائل سے آگاہی کے لیے اپنے حلقے کے لوگوں سے مسلسل رابطے میں رہنا چاہیئے۔اگر لوگوں کی اپنے نمائندوں تک رسائی ہو گی تو ہی وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے اِن کو آگاہ کر سکیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved