تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

مظلوم بن کر چیختی چلاتی ڈی ایس پی کے دفتر میں پہنچنے والی یہ خوبصورت 22 سالہ لڑکی دراصل کون نکلی؟ پول کھلتے ہی فوراً گرفتار کر لیا گیا۔۔ دھماکہ خیز انکشاف


لودھراں(سی پی پی) مظلوم بن کر چیختی چلاتی ڈی ایس پی کے دفتر میں پہنچنے والی یہ خوبصورت 22 سالہ لڑکی دراصل کون نکلی؟ پول کھلتے ہی فوراً گرفتار کر لیا گیا۔۔ دھماکہ خیز انکشاف ۔جنوبی پنجاب کے سادہ لوح افراد کو شادی کا جھانسہ اور سیاسی شخصیات سمیت امراء کو زیادتی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر بلیک میل کرنے والے گروپ کی سرغنہ ڈی ایس پی صدر لودہراں کے دفتر میں مار کٹائی سے بھرپور ڈرامہ رچانے کے بعد گرفتار کرلی گئی۔پولیس

ذرائع کے مطابق رحیم یار خان کی رہائشی 22 سالہ .دوشیزہ عظمیٰ شہزادی عرف تحریم فردوس عرف شہزادی نے کافی عرصہ سے ضلع رحیمیار خان، بہاولپور، ملتان، بہاولنگر، لیاقت پور اور دیگر علاقوں میں مختلف نام اور ولدیت سے خود سے زیادتی اور چھیڑ خانی سمیت مختلف الزامات کے تحت مقدمات درج کروا کر عام عوام کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کررکھا تھا۔ملزمہ نہ صرف جنسی زیادتی کے مقدمات کی جعلی ناموں سے مدعیہ بنتی تھی بلکہ رحیم یار خان ضلع میں خاص طور پر سادہ لوح افراد کو شادی کا جھانسہ دیکر رقم بٹورنے میں

بھی مصروف تھی۔خوبرو خاتون نے حال ہی میں سابق ایم پی اے زمان خالد جج سمیت رحیم یار یار خان کے انجمن تاجران کے عہدیداروں، صرافہ ایسوسی ایشن کے بڑے ناموں کے خلاف بھی ناجائز مقدمات اور درخواستوں کی بھرمار کی اور ایک خودساختہ تنظیم شہزادی ویلفیر سوسائٹی کے نام سے یتیم بچیوں کے جہیز کے لئے بھی مخیر حضرات سے چندہ جمع کرکے رفو چکر ہوجاتی تھی۔اس قسم کی معلومات ملنے کے بعد اور تاجران سمیت مختلف شرفاء کی جانب سے شکایات

ملنے کے بعد مذکوہ خاتون بارے رحیم یارخان پولیس حرکت میں آئی اور بیشتر مقدمات کو خارج کرکے اس خاتون کی باقاعدہ تلاش کا سلسلہ شروع کردیا گیاسوموار کی صبح عظمی شہزادی اپنی سوتیلی والدہ عذرا پروین بیوہ محمدبوٹا کے ہمراہ اچانک ڈی ایس پی صدر سرکل لودہراں ضیاء الحق کے دفتر میں دروازے کو دھکا دے کر زبردستی داخل ہوئی اور آتے ہی دفتر میں موجود ڈی ایس پی کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرےتے ہوئے کہا کہ تھانہ سٹی لودہراں کے مقدمہ نمبر

658/18 کے ملزمان کیوں گرفتار کیوں نہیں کیا جارہا ڈی ایس پی اس اچانک افتاد پر ایک لمحے کیلئے ہکا بکا رہ گئے پھر خواتین کو بیٹھنے کیلئے کہا اور ایس ایچ او سٹی سے مقدمے بارے معلومات لینے کی بات کی لیکن اسی دوران عظمیٰ شہزادی جو جینز پینٹ اور شرٹ میں ملبوس تھی اچانک سے براہ راست ڈی ایس پی پر حملہ آور ہوگی دفتر میں دیگر افراد جو اپنے مقدمات کے سلسلے میں انکوائریوں کیلئے موجود تھے انہوں نے اور پولیس ملازمین نے بیچ بچاؤ کی کوشش کرکے معاملہ کنٹرول کیا اس وارادت پر ڈی ایس پی نے فوری طور پر لیڈی پولیس اور

تھانہ سٹی کی پولیس کو دفتر طلب کیا اور خاتون کو گرفتار کرلیا لیکن عظمیٰ نے فوری طور پر اپنے آپ کو بچانے کیلئے اپنا سر ڈی ایس پی کی میز پر دے مارا جس سے اس کی ناک پر معمولی زخم آیا تاہم پولیس دونوں خواتین کو گرفتار کرکے تھانے لے گئی اور ان کے خلاف پورے جنوبی پنجاب کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات اور دیگر ریکارڈ منگوانے کے بعد ڈی ایس پی دفتر میں حملہ کرنے اور کار سرکار میں مداخلت سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ نمبر

692/18 درج کرلیا ہے پولیس کے مطابق مذکورہ ملزمہ عظمیٰ کے خلاف ڈی ایس پی انویسٹی گیشن گلگشت ملتان نے بھی کار سرکار میں مداخلت، بدتمیزی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا ہوا ہے۔لودہراں پولیس ملزمہ کے سابق ریکارڈ کو سامنے رکھ کر مزید تفتیش بھی کررہی ہے۔اور مزید انکشافات کا امکان ہے




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved