تازہ ترین  
ہفتہ‬‮   19   جنوری‬‮   2019

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی وہ پیش گوئی جو20سال بعدسچ ثابت ہوگئی


سینئر صحافی حامد میر نے جنگ نیوز میں ایک تحریر شائع کی ہے جس میں انہوں نے ماضی میں اوسامہ بن لادن کے کیے گئے انٹرویو سے متعلق کچھ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے ۔ حامدمیر کا اپنی تحریر میں کہناتھا کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن نے امریکا اور ”دہشت گردوں“ کے درمیان مذاکرات کی 20 سال پہلے ہی پیشگوئی کردی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ

2019ءامریکا اور افغان طالبان کے درمیان کوئی پیش رفت لائے گا؟ 2018ء کے آخری ماہ میں افغانستان میں امن کے لئے امید کی کرن پیدا ہوئی یہ امید کی کرن 2019ءمیں مشعل ر اہ بن سکتی ہے۔ اگر افغان طالبان سال نو پر سعودی عرب میں ہونے والے براہ راست امن مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں کوئی پیش رفت کرتے ہیں۔ امریکی حکام اپنی سی بہترین کوشش کررہے ہیں کہ کابل حکومت کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔ لیکن طالبان اس پر آمادہ نہیں۔ 20 سال قبل میں قندھار میں اسامہ بن لادن کےساتھ بیٹھا تھا۔ ان سے امریکیوں کے قتل کا فتویٰ جاری کرنے پر بحث ہورہی تھی یہ فتویٰ 1998 میں ایک عربی روزنامے میں شائع ہوا تھا جس پر اسامہ بن لادن اور کچھ دیگر جہادی رہنماؤں کے دستخط تھے۔ یہ فتویٰ دنیا بھر میں موضوع بحث بن گیا میں نے افغانستان پہنچ کر القاعدہ رہنما کا انٹرویو کیا۔ میں نے ان سے سادہ سا سوال کیا کہ آپ قرآن کی روشنی میں بے گناہ غیر مسلموں کے قتل کا حکم کیسے جاری کرسکتے ہیں؟ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا جواز دینے میں ناکام رہے اور اسرائیلیوں کے لئے امریکی حمایت کی بات کرنا شروع کردی۔ انہوں

نے کہا امریکی فلسطینیوں پر ا سر ا ئیلی مظالم کیوں نہیں رکواتے میں نے ان سے کہا فلسطین ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی طور پر ہی حل کیا جاسکتا ہے، آپ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں مذاکرات کی حمایت کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے غصے سے میری تجویز مسترد کردی اور کہا کہ انہوں نے مذاکرات کے نام پر عربوں کو ہمیشہ دھوکہ ہی دیا۔ انہوں نے میرے کچھ سخت سوالات کو برداشت کیا لیکن ان کے طویل جوابات دیئے۔ 5 گھنٹے بعد میری آڈیو کیسٹس ختم ہوئیں اور انہیں بتایا کہ پورا انٹرویو (گفتگو) ایک اخباری انٹرویو میں سمویا نہیں جاسکتا لیکن کتابی شکل دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اپنی سوانح پر مبنی کتاب کے لئے مزید مواد دینے کا وعدہ کیا۔ 1998ءمیں اسامہ بن لادن دنیا کے مطلوب ترین شخص نہیں تھے اور کئی مغربی ناشر ان کی سوانح کی اشاعت پر آمادہ تھے۔ اس انٹرویو کے کچھ ہی دنوں بعد کینیا اور تنزانیہ کے امریکی سفارتخانوں پر بموں سے حملے ہوئے۔ ہر ایک کا شک القاعدہ پر گیا۔ میرا ان سے رابطہ ٹوٹ گیا اور کتاب میں تاخیر ہوگئی۔ سانحہ 9/11 کے بعد میں اپنی زندگی کا خطرہ مول لیتے ہوئے امریکی فضائی بمباری کے عین درمیان افغانستان




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved