تازہ ترین  
بدھ‬‮   14   ‬‮نومبر‬‮   2018

سزائے موت سے کچھ دیر قبل زینب کے قاتل ملون عمران کے جسم میں کیا لرزہ خیز تبدیلی آگئی ؟ وہ سارا دن کیا کام کرتا رہتا ہے ؟ پاکستانی پڑھ کر عبرت پکڑیں


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سزائے موت سے کچھ دیر قبل زینب کے قاتل ملون عمران کے جسم میں کیا لرزہ خیز تبدیلی آگئی ؟ وہ سارا دن کیا کام کرتا رہتا ہے ؟ پاکستانی پڑھ کر عبرت پکڑیں ۔ زینب قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم عمران علی کے ڈیتھ وارنٹ گذشتہ ہفتے جاری کیے گئے جس کے تحت مجرم عمران علی کو 17 اکتوبر کو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ تختہ دار پر لٹکانے سے قبل مجرم عمران علی کی 16 اکتوبر کو اس کے ورثا سے ملاقات کروائی جائے گی۔ ملاقات کل 12 بجے کروائی جائے گی۔ مجرم سے ملاقات کرنے والوں میں بہن ، بھائی اور والدین شامل

ہوں گے۔ اس حوالے سے جیل انتظامیہ نے ملزم کی والدہ سلمیٰ بی بی کو خط بھی لکھ دیا ہے۔ورثا 50 سے کم رشتہ داروں کو الوداعی ملاقات کے لیے ساتھ لا سکتے ہیں۔ خط میں ورثا کو ہدایت کی گئی ہے کہ صبح ساڑھے پانچ بجے ایمبولینس ، سوٹ اور چادر لے کر میت وصول کریں اور مجرم کی میت میڈیکل آفیسر کی رپورٹ کے بعد ہی ورثا کے حوالے کی جائے گی۔ پھانسی کے موقع پر ڈیوٹی مجسٹریٹ مجرم عمران علی سے آخری خواہش دریافت کرے گا اور اس کا مروجہ طریقہ کار کے مطابق میڈیکل چیک اپ بھی کروایا جائے گا۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ مجرم کے چہرے پر موت کا خوف صاف نمایاں ہے، مجرم کو اکثر اوقات اپنے بیرک میں گھناؤنے فعل پر پچھتاوے کے تحت روتے اور بلبلاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ مجرم عمران علی کو سینٹرل جیل میں عام قیدیوں کی طرح ہی کھانا دیا جاتا ہے اور اس کی سخت مانیٹرنگ بھی کی جاتی ہے تاکہ کہیں مجرم اپنے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا لے۔ مجرم نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہےکہ وہ آخری خواہش میں زینب کے والدین سے معافی کی درخواست کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ 12 اکتوبر 2018ء کو زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کی رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مجرم عمران علی کے بلیک وارنٹ جاری کیے جس کے تحت مجرم عمران علی کو 17 اکتوبر کو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ اس پر زینب کے والد امین انصاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں تاخیر ہوئی لیکن میں اس فیصلے پر مطمئن ہوں۔انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی پر میں چیف جسٹس ثاقب نثار کا شکرگزار ہوں۔ زینب کی والدہ نے بھی مجرم کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مجرم کو اُسی جگہ پھانسی پر لٹکایا جائے جہاں اس نے معصوم زینب کا قتل کیا تھا۔ واضح رہے کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 17 فروری کو زینب قتل کیس کا فیصلہ سنایا۔ کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت جے جج جسٹس سجاد احمد نے زینب قتل کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے عمران علی کو مجرم قرار دیتے ہوئے 4 مرتبہ سزائے موت ، عمر قید اور20 لاکھ روپے جُرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے عمران علی کو زینب کو اغوا کرنے، زینب سے جنسی زیادتی کرنے ، زینب کو قتل کرنے اور 7 اے ٹی اے کے تحت 4 مرتبہ سزائے موت کا حکم دیا، زینب کے ساتھ بد فعلی کرنے پر عمران علی کو عمر قید اور25 لاکھ روپے جرمانہ اور جبکہ زینب کی لاش کو گندگی کے ڈھیر میں پھینکنے اور بے حُرمتی پر عمران علی کو 7 سال قید کی سزا اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ مجرم عمران علی کو زینب قتل کیس سمیت دیگر بچوں کے قتل میں 21 مرتبہ پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved