08:58 am
موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کا ڈیٹا فروخت کرنے کا انکشاف، ہر کو ئی سر پکڑ کر بیٹھ گیا

موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کا ڈیٹا فروخت کرنے کا انکشاف، ہر کو ئی سر پکڑ کر بیٹھ گیا

08:58 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایف آئی اے کی جانب سے بتایاگیا سائبر کرائمز میں 28000 شکا یت رجسٹرڈ کرائی گئیں ،حکومت کی جانب سے وزارت کے بجٹ میں 50فیصد کٹ لگانے پر کمیٹی اراکین کی طرف سے اظہا ر برہمی کیاگیا ،کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ حکومت وزارت کا بجٹ سو فیصد کرے، دنیا کی ترقی انفارمیشن ٹیکنالوجی کیساتھ جڑی ہے، پڑوسی ملک آئی ٹی کے شعبے میں مہارت حاصل کرنے پر اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان کا رہنما بنا ہوا ہے جبکہ یہاں وزارت کیساتھ سو قیا نہ سلوک روا رکھا جاتاہے،موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کا ڈیٹا فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں چیئر مین کمیٹی نے بتایا ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ نے گزشتہ 28ماہ میں 28000شکایت رجسٹرڈ کی ہیں ۔ یہ شکایت ریاست مخالف موا د پر مشتمل تھیں ان ریاست مخالف سوشل میڈیا کی شکایت آئی ایس آئی نے کی تھیں ۔ سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اجلاس کو بتایا آزاد کشمیر گلگت بلتستان میں آئی ٹی کاکام ایس سی او کر رہی ہیں ،جو ملک کے اندر موبائل کمپنیاں کام کر رہی ہیں وہی آزاد کشمیر گی بی میں بھی کام کر رہی ہیں لیکن ان علاقوں میں قوانین کی نوعیت مختلف ہے اسلئے وہ ان قوانین کے تحت کام کرتی ہیں ۔ فاٹا میں یوایس ایف کاکام ایس سی او کرر ہاہے ، انہوں نے کمیٹی کو بتایا سال 2018 .19 کے بجٹ کیلئے 6,500,000ملین روپے کی منظوری دی گئی جبکہ وزارت کی جانب سے 184,703,000ملین روپے مانگے گئے تھے ۔ تعمیر و مرمت کیلئے 10,660,000ملین دئیے گے جبکہ اخراجات 5,933,287ملین روپے آئے 18,869 ,700ملین روپے قومی خزانے کو واپس بھجوا دئیے گے کیونکہ کہا گیا وزارتوں کے بجٹ پر 50 فیصد کٹ لگ گیا ہے۔ آئی ٹی ممبر خاور نے کمیٹی کو بتایا بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا میں کچھ علاقوں میں تھری جیز اور کچھ میں ٹو جیز سروس ہے جبکہ کئی علاقوں میں ابھی تک سروس نہیں ہے جہاں سروس نہیں وہاں یو اے ایف فنڈز سے وہ کام مکمل کیاجائے گا۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہاتمام موبائل کمپنیاں منافع میں جا رہی ہیں لیکن وہ جن علاقوں میں منافع کم ہو وہاں نیٹ ورک بڑھانے پر توجہ نہیں دے رہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ موبائل کمپنیاں صارفین کا خفیہ ڈیٹافروخت کر رہی ہیں ۔ سینیٹر فدا خان نے کہاضلع ملاکنڈ کے علاقے وزیر آباد ، قدم خیلہ ، پیر محل مخ بند سخا کوٹ جدید میں کوریج نہیں جا رہی جس پر یو فون کے نمائندے نے کہا کئی علاقوں میں نیٹ ورک بڑھا رہے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے اگلے اجلاس میں تفصیلات طلب کرلیں ۔ سینیٹر عتیق شیخ نے انکشاف کیا ملک میں سوشل میڈیا کے چودہ ایپس جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اون وہ حساس ڈیٹا لیک کر رہی ہیں جس پر اجلاس کا وقت ختم ہونے پر اس ایجنڈے کو اگلے اجلاس تک کیلئے معطل کر دیا گیا۔

تازہ ترین خبریں