02:16 pm
اثاثوں کے کیس میں گرفتار علیم خان بہت بڑی مشکل میں پھنس گئے

اثاثوں کے کیس میں گرفتار علیم خان بہت بڑی مشکل میں پھنس گئے

02:16 pm

 لاہور (آئی این پی ) احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور آف شور کمپنی کیس میں گرفتار پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علیم خان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منطور کر تے ہوئے نیب کے حولے کر دیا ،نیب پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ علیم خان کے پاس 2003میں کوئی اثاثے نہیں تھے ، 2007میں علیم خان نے 871ملین کے اثاثے بنا لئے، اس عرصہ میں علیم خان نے 35کمپنیاں اور سو کے قریب اکائونٹ کھلوائے
، ان کے اثاثوں کی مالیت پندرہ سے بیس ارب روپے ہے، انہوں نے نو سو کنال کی قیمت ساٹھ کروڑ روپے ظاہر کی جبکہ 2003 میں زمین خریدی گئی اس وقت ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔ جمعہ کو احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے عبدالعلیم خان کے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس پر سماعت کی۔ پی ٹی آئی رہنما کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر دوبارہ احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر دلائل دیتے ہوئے علیم خان کے وکیل نے کہا کہ نیب نے علیم خان کو گرفتار آف شور کمپنی میں کیا اور تحقیقات اثاثہ جات میں ہورہی ہیں۔ نیب ایک بار پھر ان کا جسمانی ریمانڈ لینے آگیا ہے۔ عدالت نیب کی استدعا مسترد کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دے۔ علیم خان نے 7مارچ 2018کو سارا ریکارڈ نیب کو فراہم کردیا تھا۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ تیس ملین درہم کی پاکستان سے دبئی منتقلی کی دستاویزات علیم خان نے فراہم نہیں کیں جس پر علیم خان کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ پیسے علیم خان کی والدہ کے اکائونٹ سے گئے۔ اس موقع پر علیم خان نے کہا کہ نیب نے نوٹس میں مجھ پر کرپشن کا الزام لگایا۔ میرے اثاثے ڈیکلیئرڈ ہیں یہ نیب نے پانامہ سے نہیں لئے گیارہ سال نیب سویا رہا اب کرپشن کا الزام لگا دیا۔ گیارہ سال تک نیب نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس پر نیب پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ علیم خان کے پاس 2003میں کوئی اثاثے نہیں تھے لیکن 2007میں علیم خان نے 871ملین کے اثاثے بنا لئے۔ اس عرصہ میں علیم خان نے 35کمپنیاں اور سو کے قریب اکائونٹ کھلوائے۔ علیم خان 2000میں سوسائٹی کے سیکرٹری کوآپریٹیو اور 2003میں ایم پی اے بنے۔ علیم خان کے اثاثوں کی مالیت پندرہ سے بیس ارب روپے ہے۔ علیم خان نے اپنے اثاثوں کو الیکشن گوشواروں میں بھی ظاہر نہیں کیا۔ علیم خان نے نو سو کنال زمین خریدی مگر ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ کیسے خریدی۔ انہوں نے نو سو کنال کی قیمت ساٹھ کروڑ روپے ظاہر کی جبکہ 2003 میں زمین خریدی گئی اس وقت ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔ علیم خان نو سو کنال اراضی کی خریداری کا ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ انہوں نے بے نامی اکائونٹ سے ادائیگی کی۔ اس موقع پر علیم خان نے عدالت کو بتایا کہ 2003میں ان کے اثاثے تیرہ کروڑ روپے تھے جو 2017میں 87کروڑ دس لاکھ روپے ہوگئے۔ ستاون کروڑ روپے والدہ سے وراثت میں ملے۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پندرہ کروڑ روپے بیرون ملک سے علیم خان کے والدین کو آئے علیم خان اس کی منی ٹریل نہیں دیئے سکے تقریباً نوے کروڑ روپے دبئی کی جائیداد کے لئے بھجوائے گئے۔ 2003سے 2007تک علیم خان کے اثاثوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ اس موقع پر عدالت نے علیم خان کے ریمانڈ میں دس روز کی توسیع کرتے ہوئے ان کو نیب کے حوالے کردیا