01:51 pm
دشمن کوئی اور ہوتو جنگ لڑنا مشکل ہو سکتا ہے مگر یہاں تو ہندوستان ہے، جانیں

دشمن کوئی اور ہوتو جنگ لڑنا مشکل ہو سکتا ہے مگر یہاں تو ہندوستان ہے، جانیں

01:51 pm

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غور نے کہا ہے کہ دشمن کیخلاف جنگ لڑنا مشکل ہے مگر بھارت ایک جانا ہونا دشمن ہے، ’ ہم نے 70 سال آپ ہی کو دیکھا، پڑھا، آپ ہی کیلئے تیاریاں کی ہیں اور جواب بھی آپ کیلئے ہی ہے۔ جنگ کی دھمکیاں آپ کی طرف سے آ رہی ہے اور ہم جنگ کی تیاریاں نہیں کر رہے بلکہ اپنا دفاع کرنا اور جواب دینا ہمارا حق ہے، ہم اس حق کی تیاریاں کر رہی ہیں، پاکستان نے پلوامہ واقعے کے بعد پہلے سوچا، پھر تحقیق کی اور پھر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر جواب دیا اور ہمارے وزیراعظم نے ایسی پیشکش کی جو شائد پہلے کبھی نہیں کی گئی۔ پاکستان بدل گیا ہے
اور ایک نئی سوچ آ رہی ہے، ہم بہت مشکلوں سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں اور اب ہم میں صبر اور تحمل آ گیا ہے، غلطیاں کیں مگر ان سے سیکھا بھی لیکن اب غلطی کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی ارادہ، ہم گزرے ہوئے کل کی افواج نہیں، ہمارے تینوں سپہ سالاروں سے لے کر سپاہیوں تک اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر ہاتھوں سے جنگ لڑی ہے اور دہشت گردی کیخلاف دفاع کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان بدل رہا ہے اور ایک نئی سچ آ رہی ہے، ہم بہت مشکلوں سے گزر کر یہاں پہنچے ہیں، ہماری افواج اور عوام نے خون کے سمندر سے گزر کر اس وطن کو جلا بخشی ہے اور اب ہم میں صبر اور تحمل ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک اور افواج پاکستان واحد فوج، جنہوں نے ان خطرات کا مقابلہ کیا اور دہشت گردی کو حاوی نہیں ہونے دیا، افغانستان میں موجود بین الاقوامی قوتوں کو جہادی فورسز کیخلاف کامیابی حاصل کرنے میں مدد کی، خطے میں امن کی کوشش کی، آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کی سوچ پاکستان میں آئی، غلطیاں کی ہیں مگر ان غلطیوں سے سیکھا بھی ہے، اب غلطیوں کی گنجائش ہے نہ کوئی ارادہ، پاکستان نے پلوامہ کے بعد پہلے سوچا، پھر تحقیق کی اور پھر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر جواب دیا اور ہمارے وزیراعظم نے وہ پیشکش دی جو شائد پہلے کبھی نہیں دی گئی، انہوں نے کہا کہ چاہے جیسی مرضی تحقیق کروا لیں مگر ثبوت دیں، اور اگر کوئی ثبوت ملا تو ہم آپ کے دباؤ میں نہیں بلکہ اپنے مفاد میں کارروائی کریں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پہلے جب بھارت سے مذاکرات کی بات کرتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ پہلے دہشت گردی پر بات ہو گی، ہمارے وزیراعظم نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ دہشت گردی پر بھی بات کریں مگر دہشت گردی خطے کا مسئلہ ہے اور پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، ہم کیسے چاہیں گے کہ خطے میں دہشت گردی ہو؟ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کی کانفرنس ہوئی جس میں نیشنل ایکشن پلان پر مزید تیزی سے عمل کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات تھے، جن میں سے کچھ نکات فوج کیلئے تھے اور کچھ باقی اداروں کیلئے تھے، مگر ایک ہی وقت میں ان تمام نکات پر پاکستان کی کارکردگی اس رفتار سے نہیں ہو سکتی یا ہوئی جس طرح ہونی چاہئے تھی لیکن چونکہ اب ہم نے دہشت گردی کو براہ راست قابو کر لیا ہے لہٰذا وزارت داخلہ نے ایک نکات پر عمل کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت میں ہو بات ہو رہی ہے کہ پاکستان جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے، نہیں! ہم جنگ کی تیاریاں نہیں کر رہے بلکہ جنگ کی دھمکیاں اور بدلے کی دھمکیاں آپ کی طرف سے آ رہی ہیں، ہم ایک خودمختار ریاست ہیں اور ہمیں آپ کی دھمکیوں کا جواب دینے کا حق ہے، ہم جنگ شروع کرنے کی تیاریاں نہیں کر رہے مگر اپنا دفاع اور جواب دینا ہمارا حق ہے اور ہم اپنے حق کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ہم گزرے ہوئے کل کی افواج نہیں، ہمارے تینوں سپہ سالاروں سے لے کر سپاہیوں تک سب نے اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر ہاتھوں سے جنگ لڑی ہے اور اس وطن کا دہشت گردی کیخلاف دفاع کیا ہے، دشمن کیخلاف جنگ بہت مشکل ہے مگر بھارت ایک جانا ہوا خطرہ ہے، ہم نے 70 سال سے آپ ہی کو دیکھا، پڑھا، آپ کیلئے تیاریاں کیں اور جواب بھی آپ کیلئے ہی ہے۔