02:26 pm
پاک فوج کے 2 بڑے افسر جاسوسی کے الزام میں گرفتار۔۔۔ آرمی چیف نے بڑا حکم جاری کر دیا

پاک فوج کے 2 بڑے افسر جاسوسی کے الزام میں گرفتار۔۔۔ آرمی چیف نے بڑا حکم جاری کر دیا

02:26 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )میجر جنرل آصف غفور نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی کے دو سینئر افسر جاسوسی کے الزام میں بالکل گرفتار ہیں لیکن ان کا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہناتھا کہ آرمی چیف نے ان دونوں افسران کے کورٹ مارشل کا حکم جاری کر دیا ہے ، یہ دونوں الگ کیسز ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، کورٹ مارشل مکمل ہونے تک آگاہ کیا جائے گا ۔آصف غفور کا کہناتھا کہ جنرل اسد درانی پر ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ثابت ہو گئی ہے
اور ان عدالت نے ان کی پنشن سمیت دیگر مراعات ختم کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی میجر جنرل آصف غفور آج میڈیا کو پلوامہ حملے سے خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بریفنگ دے رہے تھے، اس موقع پر خاتون صحافی نے سوال کیا کہ بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں نوا شریف کے بیان کو کلبھوشن یادیو کیس میں بطور ثبوت پیش کیا کہ پاکستان کا سابق وزیر اعظم بھارت میں دہشتگردی میں ملوث ہونے پر پاکستان کی نشاندہی کر چکا ہے، اس پر آپ کیا کہیں گے؟ خاتون کا سوال سنتے ہی میجر جنرل آصف غفور نے جواب دیا کہ یہ سیاسی معاملہ ہے اس کے موجودہ صورتحال کے ساتھ نہ ملائیں اور اصلی ایشو کی طرف آجائیں شکریہ ۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ فوجی ضابطہ کی خلاف ورزی پر اسد درانی کی پنشن اور دیگر مراعات روک دی گئی،جنرل (ر)اسد درانی کی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پرانکوائری ہورہی تھی،جنرل اسد درانی کی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پرانکوائری ہورہی تھی، جنرل اسد درانی کی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پرانکوائری ہورہی ہے،فوجی ضابطہ کی خلاف ورزی پر اسد درانی کی پنشن اور دیگر مراعات روک دی گئی،جنرل (ر)اسد درانی کی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پرانکوائری ہورہی تھی،جنرل اسد درانی کی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پرانکوائری ہورہی تھی، جنرل اسد درانی کی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پرانکوائری ہورہی ہے۔ ہم اپنی قوم کو کبھی بھی مایوس نہیں کریں گے، پاک فوج کا ہر جوان اپنی آخری سانس تک ملک و قوم کی حفاظت کرے گا ،بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جمہوری ملکوں میں جنگ نہیں ہوتی ،مسئلہ کشمیر خطے کے امن کیلیے سب سے بڑا خطرہ ہے آئیے اسے حل کریں ، ہم امن کی صحافت کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ، آئیے خطے کو دہشتگردی سے پاک کرتے ہیں،بھارت کا سارا میڈیا جنگی صحافت کررہا ہے ، امید کرتا ہوں کہ پاکستان کی طرف سے آپ کوپیغام مل گیا ہوگا ۔ آپ ہمیں حیران نہیں کرسکتے ہم آپ کو حیران کریں گے، اس بار فوجی ردعمل مختلف قسم کا ہوگا ، جنگ اور بدلے کی دھمکی بھارت کی طرف سے آئی ہے،ہم جنگ کی تیاریاں نہیں کررہے،جنگ اور بدلے کی دھمکی بھارت کی طرف سے آرہی ہے ، ہم جنگ میں پہل کی تیاری نہیں کررہے ،دفاع کرنا ہمارا حق ہے ،ہم جنگ کی تیاری نہیں کررہے ،دفاع کرنا ہمارا حق ہے ، وزیر اعظم نے بھارت کو وہ پیشکش کیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئیں ، نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات تھے ، بھارت میں یہ بات چیت ہورہی ہے کہ پاکستان جنگی تیاریاں کررہا ہے ،آنیوالی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کی سوچ پاکستان میں پنپ رہی ہے ،ہم خطے میں امن کی کوششیں کررہےہیں ، فوج اور عوام نے خون کے سمندر سے گزر کر ملک کو جلا بخشی ، ہمارےوزیراعظم نےبھارت کووہ پیش کش کی جوپہلے نہیں کی گئیں، ہم خطے میں امن کی کوشش کررہےہیں، معاشی استحکام کی کوشش کررہےہیں۔ 1947 میں پاکستان آزادہوا،اس حقیقت کوبھارت آج تک تسلیم نہیں کرسکا،اس کے بعد وزیراعظم نےاپنا بیان جاری کیا،پاکستان نے جواب دینے میں تھوڑا وقت لیا ہے ، پاکستان نےاپنےطورپرواقعے کی تحقیقات کیں،واقعے کے فوری بعدبھارت نےپاکستان پرالزامات کی بارش کردی،64 فیصد آبادی نوجوان ہے، وزیراعظم پاکستان نے بھارت کو الزامات کا جواب دیا ،ایک چوتھائی بات کرتا ہوں اور تین چوتھائی سوال لیتا ہوں، بھارت یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے، ہم جنگ کی تیاریاں نہیں کر رہے لیکن اگر یلغار کیا گیا تو ہم بھرپور جواب دیں گے، پلوامہ حملے پر پاکستان نے منفرد جواب دیا لیکن بھارتی حملے کا جواب بھی فوج کا منفر ہوگا، ہم کل کی فوج نہیں ہیں، اب اگر کسی نے مزاحمت کی تو جواب بھی ویسا دیں گے جو صدیوں یاد رکھا جائے گا ۔ کہ 1971 میں پاکستان کو دولخت کیا گیا ، 1998میں ہم نے جوہری طاقت اپنے دفاع کیلیے حاصل کی،2008میں ہمیں کامیابیاں مل رہی تھیں کہ بھارت اپنی فوجیں سرحد پر لےآیا، 2001میں انٹرنیشنل فورسز نے طالبان کیخلاف افغانستان میں کارروائی شروع کی،بھارت نےکشمیر پر حملہ بھی کیا اور 70سالوں سے کشمیر پر قابض ہے،65 کی جنگ کےہمارےملک پراثرات ہوئے،پاکستان میں حالات بہتر ہوں تو بھارت انہیں خراب کرنیکی کوشش کرتا ہے، اس وقت بھارت اپنی افواج کوبارڈر پرلےآیا،پاکستان میں کوئی اہم ایونٹ ہوناہویاملک مستحکم ہورہا ہوتومقبوضہ کشمیر یابھارت میں کوئی ایسا واقعہ ہوجاتاہے،71 سے 1984 تک مشرقی سرحد پر کوئی واقعہ نہیں ہوا، ممبئی حملے کےوقت بھی بھارت میں عام انتخابات ہونے تھے، سعودی ولی عہد کاپاکستان کا دورہ تھا،کانفرنس ہورہی تھی ،پاکستان میں حالات بہتر ہوں تو بھارت انہیں خراب کرنیکی کوشش کرتا ہے،اس وقت بھارت اپنی افواج کوبارڈر پرلےآیا،واقعہ اس علاقے میں ہوا جہاں مقامی آبادی سے زیادہ فوج بیٹھی ہے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ یہ کیسےہوسکتاہے کہ پاکستان کی طرف کوئی ایل او سی کراس کرے ،بھارت میں متعدد افراد اس حملے کی پیشگوئی کررہے تھے ،ا گرپاکستان ڈپلومیٹک آئسولیشن میں ہے تو کیسے سربراہان مملکت یہاں کےدورے کررہےہیں ، لائن آف کنٹرول پر ہم نے5 کراسنگ پوائنٹ بھی قائم کیے، ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ پر ڈسکشن ہونی تھی اور ایک اہم فیصلہ ہونا تھا، کیا پاکستان ڈپلومیٹک آئسولیشن میں ہے ؟8 ایسے ایونٹس تھےجو پاکستان میں ہونے تھے،کرتارپوربارڈرپردونوں ملکوں کی میٹنگ ہونا تھی،عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کاکیس چل رہا تھا،افغان امن عمل کا پراسس اسی ماہ چل رہا تھا۔بھارت یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے، ہم جنگ کی تیاریاں نہیں کر رہے لیکن اگر یلغار کیا گیا تو ہم بھرپور جواب دیں گے، پلوامہ حملے پر پاکستان نے منفرد جواب دیا لیکن بھارتی حملے کا جواب بھی فوج کا منفر ہوگا، ہم کل کی فوج نہیں ہیں، اب اگر کسی نے مزاحمت کی تو جواب بھی ویسا دیں گے جو صدیوں یاد رکھا جائے گا ۔

تازہ ترین خبریں