05:10 pm
متنازعہ کتاب لکھنے والے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو کیا سزا ملی آرمی  کی کونسی دوسینئر شخصیات حراست میں ہیں

متنازعہ کتاب لکھنے والے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو کیا سزا ملی آرمی کی کونسی دوسینئر شخصیات حراست میں ہیں

05:10 pm

راولپنڈی (آئی این پی)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ جنگ کی تیاری نہیں کررہے لیکن دفاع ہمارا حق ہے،بھارت جان لے ،پاکستان بدل رہا ہے جنگ ہوئی تو فوجی ردعمل بھی مختلف ہوگا،بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیں گے، 70 سال آپ کو دیکھا، آپ کیلئے ہی صلاحیتیں حاصل کیں، بھارت پاک فوج کو کوئی سرپرائز نہیں دے سکتا،بھارت امن اور ترقی چاہتا ہے تو کلبھوشنوں کو ہمارے ملک نہ بھیجے، بھارت نے سوچے سمجھے بغیر پاکستان پر پلوامہ حملے کا الزام لگایا ہے ،بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشیں اور دہشت گری کی، پلوامہ واقعے میں قابض بھارتی فوج کو کشمیری نوجوان نے نشانہ بنایا،مقامی گاڑی کے ذریعے پلوامہ میں حملہ کیا گیا،بھارتی میڈیا جنگ اور پاکستانی میڈیا امن کی بات کر رہا ہے، بھارتی میڈیا جنگی صحافت کر رہا ہے، بھارت کھلاڑیوں پر پابندی، ٹماٹر بند کرنے کی باتیں کر رہا ہے،
پاکستان کے آزاد ہونے کی حقیقت بھارت آج تک تسلیم نہیں کرسکا،کورٹ نے اسد درانی کی پنشن، مراعات بند کرنے کا حکم دیا ہے، پاک فوج کے 2 سینئر افسر زیر حراست ہیں۔جمعہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 14 فروری کو پلوامہ میں کشمیری نوجوان نے سکیورٹی فورس کو نشانہ بنایا۔ واقعے کے فوری بعد بھارت کی جانب سے شواہد کے بغیر الزامات لگائے گئے پاکستان نے جواب دینے کے لئے وقت لیا تاکہ اپنی طرف سے تحقیقات کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے واقعے پر جواب دیا پاکستان کی نوجوان نسل ففتھ وار کا نشانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کو بھارت آج تک تسلیم نہیں کرسکا، بھارت کشمیریوں پر ستر سال سے ظلم کررہا ہے، 1965 کی جنگ کے پاکستان پر اثرات پڑے اور 1971 کو بھارت کے ساتھ جنگ میں مشرقی پاکستان الگ ہوگیا، 1984 میں سیاچن کا واقعہ ہوا، 1998 میں پاکستان نے اپنے تحفظ کےلئے جوہری طاقت حاصل کی، اس کے بعد بھارت نے غیر روایتی پالیسی کو اپناتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینا شروع کیا، 2008 میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں مل رہی تھیں تو بھارت اس کو روکنے کےلئے اپنی فوج بارڈر پر لے آیا، کلبھوشن اس کا زندہ ثبوت ہے، پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، پاکستان میں جب بھی امن آرہا ہو بھارت یا کشمیر میں کوئی واقعہ رونما ہوجاتا ہے، فروری مارچ میں پاکستان میں 18 اہم پیش رفتیں ہونی تھیں ،بھارت میں الیکشن کی تیاری بھی جاری ہے اور مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی اپنے عروج پر ہے، ایسے اہم وقت میں پاکستان کو پلوامہ واقعے کا نقصان ہوا ہے، پاکستان سفارتی تنہائی سے نکل رہا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آرہی ہے، ایل او سی سے آگے بھارتی ڈیفنس ہے پاکستان کی طرف سے کوئی شخص ایل او سی کراس نہیں کرسکتا، بھارت کو اپنی سکیورٹی فورسز سے جواب لینا چاہئے کہ پلوامہ حملہ کیسے ہوا جس گاڑی کو دھماکے میں استعمال کیا گیا وہ مقامی تھی اور حملہ آور بھی مقامی تھا، بھارت میں الیکشن سے قبل ایسے حملے کی پیشن گوئی بھی کی تھی۔ پاکستان بدل رہا ہے اور نئی سوچ آرہی ہے۔ ہم نے خون کے سمندر سے گزر کر اس ملک کو جلا بخشی ہے، ہم نے دہشت گردی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا، پاکستان اب ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، غلطیوں سے سیکھا ہے اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے، پلوامہ حملے کے بعد وزیراعظم نے بھارت کو تحقیقات کی آفر کی ہم خود اس کا ایکشن لیں گے، وزیراعظم نے دہشت گردی پر بھی مذاکرات کرنے کی بھارت کو دعوت دی ہے، نیشنل ایکشن پلان پر قومی سکیورتی کونسل میں تیزی سے عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان جنگ کی کوئی تیاری نہیں کررہا، بھارت کی طرف سے کسی عمل پر ردعمل دینے کا ہمارے پاس پورا حق ہے، پاکستان کی جدید افواج ہے، ہم نے دہشت گردی کے خلاف ملک کا دفاع کیا ہے، اس دفعہ فوج کا ردعمل بھی مختلف ہوگا، بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کے لئے تیار ہیں، بھارت کا میڈیا جنگ اور پاکستان کا میڈیا امن کی بات کررہا ہے جس پر پاکستانی میڈیا مبارکباد کا مستحق ہے، پاکستان بات چیت اور خطے کو دہشت گردی پر بات کرنے کی بھارت کو آفر کررہا ہے، بھارت کشمیر کو طاقت کے زور پر حاصل نہیں کرسکتا، جمہورتیوں میں جنگیں نہیں ہوتیں، پلوامہ واقعہ کے بعد کشمیر اور بھارت میں انتہاءپسند واقعات ہورہے ہیں،بھارت امن اور ترقی چاہتا ہے تو کلبھوشنوں کو پاکستان نہ بھیجے، ممالک تنہائی میں ترقی نہیں کر سکتے، پورا خطہ ترقی کرتا ہے، عوام کو بہتر تعلیم، روزگار اور صحت کا حق حاصل ہے،بھارت پاکستان سے دشمنی کرے لیکن انسانیت سے دشمنی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن رد الفساد کو شروع ہوئے 2سال ہو چکے ہیں، یہ آپریشن تمام آپریشنز سے مختلف تھا، خفیہ ادارو نے کئی واقعات ہونے سے روکے ہیں اور ہماری کامیابی جاری رہے گی، جنرل اسد درانی کے خلاف انکوائری ہو رہی تھی، انکوائری میں جنرل درانی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے ہیں، ان کی پنشن اور دیگر مراعات کو روک دیا گیا ہے جو ریٹائرڈ فوجی کو حاصل ہوتے ہیں، دو مزید آفیسرز بھی گرفتار ہیں، دونوں افسران کے فلیڈ کورٹ مارشل کا آرمی چیف نے حکم دیا ہے، پاکستان امن چاہتا ہے لیکن بھارت کی کسی بھی دراندازی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، بھارت اور ایران کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، پاکستان اور ایران اچھے دوست ممالک ہیں، بارڈر پر زیادہ سیکیورٹی نہیں ہے، بارڈر کو دہشت گردوں کےلئے استعمال نہیں ہونے دینا چاہتے، ایران کے ساتھ بارڈر سیکیورٹی پر بات کررہے ہیں اور بارڈر پر دیوار بھی تعمیر کر سکتے ہیں، کشمیری عوام اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ان کو موت کا خوف نہیں رہا، بھارت کو کشمیر میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔