09:35 am
تنازعات کے باوجود مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ 50 سالوں میں پہلی بار اچانک کس کو مل گیا ؟

تنازعات کے باوجود مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ 50 سالوں میں پہلی بار اچانک کس کو مل گیا ؟

09:35 am

لاہور(نیو زڈیسک)تنازعات کے باوجود مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ 50 سالوں میں پہلی بار اچانک کس کو مل گیا ؟ دھماکے دار خبر آگئی ۔۔۔ 8 سو میگا واٹ توانائی کے مہمند ڈیم منصوبے کے تعمیری ٹھیکے کی نیلامی میں تنازع کے باوجود واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی( واپڈا) نے چینی کمپنی سی جی جی سی اور ڈیسکون انجینئرنگ کے اشتراک( جوائنٹ وینچر) کو منصوبےکی منظوری دے دی۔
قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق واپڈا نے منصوبے کے حکام کو قواعد کے مطابق منظوری کا مسودہ بھی جاری کرنے کی ہدایت کی جس میں معاہدے پر دستخط ہونے کے اگلے ماہ سے کانٹریکٹر سے کام کا آغاز کرنے کا کہا جائے گا۔اس ضمن میں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہا ’اتنے بڑے ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے پچھلے 50 سالوں میں کوئی کانٹریکٹ نہیں دیا گیا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ بالآخر اس کی تعمیر کا ٹھیکہ سی جی جی سی اور ڈیسکون کے اشتراک کو دے دیا گیا‘۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں کمپنیوں کے اشتراک (جے وی) سے منصوبے کی لاگت کم کرنے کا کہا گیا تھا جس پر انہوں نے کل لاگت میں سے 18 ارب روپے کم کیے ہیں۔واپڈا کے مطابق جے وی کی جانب سے منصوبے کے سولِ، الیکٹرکل اور مکینکل کاموں کے لیے 201 ارب روپے کی بولی دی گئی تھی تاہم گفتگو شنید کے بعد انہوں نے اس لاگت میں 18 ارب روپے کی کمی کر کے اسے 183 ار روپے تک کردیا۔چیئرمین واپڈا کے مطابق ’زمین کے مالکان زمین دینے کے لیے تیار ہوگئے ہیں جس کے بعد اب منصوبے پر کسی وقت بھی کام شروع کیا جاسکتا ہے‘۔واپڈا کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق مذکورہ ٹھیکہ واپڈا ہاؤس میں ایک اجلاس کے دوران دیا گیا جس میں تکنیکی اور دیگر پہلوؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تمام تر تفصیلات کے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی۔خیال رہے کے منصوبے کے پی سی-1 کی رو سے اس کی تعمیر 5 سال 8 مہینے میں مکمل ہونی ہے تاہم واپڈا نے درخواست کی ہے کہ اسے 5 سال سے کم مدت میں مکمل کرلیا جائے۔چیئرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ آپریشن اور منصوبے کی دیکھ بھال و مرمت صرف واپڈا کی ذمہ داری ہوگی اور ہم او اینڈ ایم ورک کسی کو نہیں دیں کیوں کہ یہ قومی ملکیت ہے چنانچہ واپڈا خود اس کی ذمہ داری اٹھائے گا۔واضح رہے کہ یہ ڈیم دریائے سوات پر خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے مہمند ضلع میں تعمیر کیا جائے گا، جس کی تکمیل سے 12 لاکھ ایکڑ فیٹ پانی ذخیرہ، اور 800 میگا واٹ سستی بجلی پیدا کی جاسکے گی جبکہ پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کے علاقے سیلاب سے بھی محفوظ رہ سکیں گے

تازہ ترین خبریں