02:18 pm
’’لاہور سے خون پینے والا لڑکا نما درندہ گرفتار ‘‘

’’لاہور سے خون پینے والا لڑکا نما درندہ گرفتار ‘‘

02:18 pm

لاہور (مانیٹرگ ڈیسک) لاہور سے حال ہی میں ایک خون چوسنے والے خطرناک درندہ صفت نوجوان کو گرفتار کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق ہم نے اکثر فلموں اور ڈراموں میں تو ڈریکولا اور ایسے کئی آدم خور کردار دیکھے ہیں جو نہ صرف انسانوں کا خون پیتے ہیں بلکہ انسان کا گوشت بھی کھاتے ہیں تاہم حال ہی میں لاہور سے حقیقت میں ایک خاتون کا خون چوسنے والا نوجوان گرفتار کر لیا گیا۔ نوجوان کو اپنے اُستاد کی اہلیہ پر حملہ کرنے اور اُس کا خون چوسنے پر گرفتار کیا گیا ۔ نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے نوجوان نے بتایا کہ واقعہ کی رات میں اپنے اُستاد کے گھر اپنے پیسے لینے آیا تھا جب میں نے دیکھا کہ گھر میں اُستانی اکیلی ہے تو اس پر حملہ کیا۔ نوجوان نے بتایا کہ میں نے گھر میں داخل ہو کر پانی پینے کے بہانے کچن کا رُخ کیا ، کچن سے بیلنا پکڑا اور اُس کے سر پر مارا جس پر وہ بے ہوش ہو گئی۔
اُستانی کے بے ہوش ہونے پر میں نے چھُری پکڑ کر ان کے دونوں ہاتھوں کی کلائیوں پر کٹ لگائے ۔ خون نکلنے پر میں نے ان کی کلائیوں کو منہ لگا کر کم از کم آدھے گھنٹے تک خون پیا۔ نوجوان نے بتایا کہ خون پینے کے بعد مجھے بالکل ہوش نہیں رہا ، اُس کے بعد میں نے مزید کتنے کٹ لگائے مجھے بالکل یاد نہیں ہے۔ نوجوان سے متعلق انکشاف ہوا کہ اس سے قبل میں جانوروں کا خون پیتا تھا لیکن یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں نے کسی انسان کا خون پیا۔ اُستاد کے گھر پہنچنے پر مجھے خون پینے کی شہوت ہو رہی تھی۔ خون کی مٹھاس میرے منہ کو لگ گئی تھی، مجھے خون شہد کی طرح میٹھا لگتا تھا۔ مجھے پیسوں کی طلب نہیں تھی صرف خون کی طلب تھی ، لہٰذا میں نے خون پیا اور میں وہاں سے نکل گیا۔ درندہ صفت نوجوان نے بتایا کہ خون پینے کے بعد میرے جسم کی تھکان اور سر کا درد سب کچھ بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر پینے کے لیے مجھے خون نہ ملے تو میرا سر چکراتا ہے اور میرا دل کرتا ہے کہ میں دیوار کو ٹکریں ماروں۔ میرے منہ کو اُس دن ہی انسان کا خون لگ گیا تھا اگر مجھے گرفتار نہ کیا جاتا تو میں نے انسانوں کا خون ہی پینا تھا کیونکہ انسان کا خون میٹھا اور ذائقہ دار تھا۔ جب مجھے خون مل جاتا ہے تو میں صرف اپنی طلب پوری کرتا ہوں اور خون پیتے وقت میرے ذہن میں کوئی خیال نہیں آتا۔ نوجوان نے بتایا کہ جب سے میں نے خون پینا شروع کیا تھامیں زیادہ سے زیادہ وقت قبرستان میں گزارتا تھا، میں میانی صاحب قبرستان میں ایک درخت کے پاس بیٹھتا تھا کیونکہ مجھے وہاں بیٹھ کر سکون ملتا تھا اور نیند بھی وہیں آتی تھی۔ اندھیری جگہ میں سکون کی وجہ سے میں نے وہاں کبھی کسی کا خون نہیں پیا۔ نوجوان نے بتایا کہ میرے والدین میں سے صرف والد کو مجھ پر شک ہوا اور وہ مجھے دو مرتبہ میانی صاحب قبرستان سے اُٹھا کر گھر بھی لائے لیکن میں پھر آدھی رات کو دو یا تین بجے وہاں چلا جاتا تھا۔ میرے دوست بھی ہیں لیکن اُن کو کچھ نہیں پتہ ۔ جب بھی دوستوں کے ساتھ کہیں جانا ہوتا تھا تو میں خون پی کر جاتا تھا۔ نوجوان نے انکشاف کیا کہ تین سال قبل ایک بابا جی نے ہی سب سے پہلے مجھے پیالے میں خون پلایا تھا۔ جب میں نے ان کے پیالے سے خون پیا تو انہوں نے میری آنکھوں کے سامنے کوئی چیز چھنکائی تھی،اُس کے بعد ہی مجھے خون کی طلب ہونے لگی تھی۔ جس کے بعد میں رات کو چھت پر بیٹھ کر دیسی مرغیوں کا خون نکال کر پیتا تھا۔ ایک ہفتے کے بعد مجھے قبرستان میں وہی بابا جی پھر ملے تھے جنہوں نے کہا تھا کہ اگر اپنی کمزوری ہٹانا چاہتے ہو تو خون تمہارے لیے بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اگر تمہیں خون کی طلب ہوئی تو مرغیوں کا خون پی لینا لیکن اب تین سال ہو گئے وہ بابا جی مجھے دوبارہ نہیں ملے۔نوجوان نے اپنی اُستانی پر حملہ کیا پولیس نے نوجوان کو گرفتار کر لیا ، جس کے بعد دوران تفتیش اس کی یہ بیماری کھُل کر سامنے آئی۔

تازہ ترین خبریں