08:29 am
 ایسی حیران کن خواہش جرمن سفیر کو جنوبی پنجاب لے گئی کہ جان کر پاکستانی بھی کھلکھلا اٹھے

ایسی حیران کن خواہش جرمن سفیر کو جنوبی پنجاب لے گئی کہ جان کر پاکستانی بھی کھلکھلا اٹھے

08:29 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایسی حیران کن خواہش جرمن سفیر کو جنوبی پنجاب لے گئی کہ جان کر پاکستانی بھی کھلکھلا اٹھے ۔۔۔ گنے کے رس سے شکر(گڑ سے تیار کردہ) کیسے تیار ہوتی ہے؟ رس سے شکر بننے کے کتنے مراحل ہیں؟ اور یہ کس صنعتی یونٹ میں پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے؟ درج بالا سوالات کے جوابات کی کھوج میں سوشل میڈیا پر انتہائی متحرک قرار دیے جانے والے جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلز جنوبی پنجاب میں شکر تیار کرنے والے شاکر نامی شخص کے پیداواری یونٹ پہنچ گئے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جرمنی کے سفیر نے اس حوالے سے اپنی کچھ تصاویر بھی شیئر کی ہیں جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ شکر کی تیاری کے مختلف مراحل انتہائی انہماک اور دلچسپی سے نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ ان سے لطف اندوز بھی ہورہے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جرمن سفیر کو اس چینی کی تیاری نہیں دیکھنی تھی جو شوگر ملز میں تیار کی جاتی ہے اور سفید رنگ کی ہوتی ہے۔ جرمن سفیر مارٹن کوبلز اس شکر کی تیاری کے مراحل سے آگاہی کے خواہش مند تھے جو دیسی اور روایتی طریقے سے ہمارے دیہاتوں اور گاؤں میں گنے کے رس سے تیار ہوتی ہے۔ مارٹن کوبلز نے شکر کی تیاری کے مراحل بیان کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ پہلے کسان گنے کی فصل کاٹتے ہیں جس کے بعد گنے سے رس (روہ) نکالا جاتا ہے۔ جرمن سفیر کے مطابق دوسرے مرحلے میں نکالے جانے والے رس کو گنے کا چورا جلا کرپکاتے ہیں جس میں سوڈا اور پاؤڈر وغیرہ شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ گاڑھا ہو جائے اوراس کا میل وغیرہ صاف ہوجائے۔ مارٹن کوبلز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا کہ پکنے کے بعد اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے ایک الگ لکڑی کے برتن میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ شکر کی تیاری کے حوالے سے انہوں نے لکھا ہے کہ اس کے بعد وہ صرف اس کی کرشنگ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ کھانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ جرمن سفیر مارٹن کوبلز نے تازہ تیار شدہ شکر بھی کھائی۔ مارٹن کوبلز جرمنی کے وہ سفارتکار ہیں جو نہ صرف سوشل میڈیا پر انتہائی متحرک رہتے ہیں بلکہ دیگر ممالک کے سفرا سمیت خود پاکستانیوں کے سامنے ملک کی ثقافت اورتہذیب کے اچھے پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے مشہور زمانہ موٹر کار کمپنی ووکس ویگن کی تیار کردہ پرانے ماڈل کی فوکسی خریدی اورپھر اسے پاکستانی ’ٹرک آرٹ‘ سے سجایا۔ اس فوکسی کار کے ساتھ بھی ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر بہت دیکھی اورشیئر کی گئی۔ ووکس ویگن جرمنی کی کمپنی ہے جس کی 80 سالہ پرانی گاڑی ’بیٹل‘ فوکسی کے نام سے مشہور ہے۔ اس کمپنی نے 2018 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2019 میں اپنی تیارکردہ فوکسی گاڑیوں کی پیداوار روک دے گی۔ جرمن سفیر پاکستانی بریانی کے بھی بہت شوقین ہیں اور گاہے بہ گاہے اس سے لطف اندوز ہونے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے سائیکل تیار کرنے والی پاکستانی کمپنی کی تیار کردہ سائیکل راولپنڈی جا کر خریدی اوراس پر سواری کرتے دکھائی دیے۔ اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی سے سائیکل خریدنے کی وجہ جرمن سفیر نے یہ بتائی تھی کہ انہیں ہر جگہ غیرملکی برانڈ کی تیارکردہ سائیکلیں مل رہی تھیں جب کہ پاکستانی سائیکل خریدنے کے متمنی تھے۔ مارٹن کوبلز نے اس طرح پاکستانیوں کو ایک یہ پیغام بھی دیا کہ اپنے ملک کی تیارکردہ اشیا کو خریدنے میں دلچسپی لیں اورانہیں ترجیح دیں یعنی ’بی پاکستانی بائی پاکستانی‘ کو عملاً فروغ دینے کی ترغیب دی۔ وہ اکثر و بیشتر پاکستان کے سماجی وتعلیمی مسائل کو بھی نہایت مہذبانہ اندازمیں اجاگر کرتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ اپنے ختیارات کی حدود میں رہتے ہوئے انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی منصوبوں میں انہوں نے اپنے ملک جرمنی کی شراکت داری بھی کرائی ہے جو یقیناً احسن اقدام ہے۔ جرمن سفیر نے گزشتہ دنوں پاکستان پوسٹ آفس کے ذریعے صرف دو سو روپے میں برلن، جرمنی ایک پارسل بھیجا اور سوشل میڈیا پر اس حکومتی ادارے کی کارکردگی کی تعریف کی جہاں کا رخ اب پاکستانی بھی ’کم کم‘ کرتے ہیں۔ یہ اقدام یقیناً پاکستان پوسٹ آفس کے ملازمین کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب بنا۔ مارٹن کوبلز اسلام آباد کی سڑکوں پہ کبھی موٹرسائیکل کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی سڑک کنارے لگے پتھاروں سے کنو، مالٹے، امرود، فالودہ اوردیگراشیا نہایت ذوق و شوق سے خریدتے ملتے ہیں۔ پاکستان کے سیاحتی مقامات کو بھی انہوں نے دنیا کے سامنے متعدد مرتبہ آشکار کیا ہے۔ جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلز نے گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ایف-7 میں لگے کچرے کے ڈھیرکے ساتھ اپنی سیلفی کھینچ کر سوشل میڈیا پر ڈالی تو انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئی تھیں۔ سی ڈی اے حکام نے عذر لنگ پیش کرتے ہوئے کچھ عملے کو معطل کردیا تھا۔ مارٹن کوبلز نے جشن آزادی بھی نہایت جوش و خروش سے منایا تھا اور باقاعدہ بازار جا کر پاکستانی جھنڈوں اور دیگرسجاوٹی اشیا کی خریداری کی تھی۔ جرمن سفیر درحقیقت اپنی سماجی سرگرمیوں کے ذریعے دنیا کو یہ بھی باور کراتے ہیں کہ پاکستان محبت کرنے والے لوگوں کا ایک ایسا محفوظ ملک ہے جس کی تہذب، تمدن اور ثقافت مختلف دلکش رنگوں سے سجی ہوئی ہے۔ مارٹن کوبلز بیشک! پاکستان میں جرمنی کے سفیر ہیں لیکن جس طرح وہ دیگرمملک کے سفرا دنیا کے سامنے پاکستان کا خوبصورت ’چہرہ‘ پیش کرتے ہیں اس پر پاکستانیوں کی بڑی تعداد انہیں غیر ملکی نہیں اپنا ’سفیر‘ سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جس علاقے میں بھی جاتے ہیں وہاں پہچان کر لوگ ان کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اورساتھ میں سیلفیاں بھی بنواتے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سمیت بالمشافہ ملاقاتوں میں بھی عوام الناس کی بڑی تعداد انہیں زیادہ تر ’’تھینک یو- مارٹن کوبلز‘‘کہتی ہے۔ جرمن سفیر کو بھی پاکستانیوں کے دوستانہ رویے کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ جب وہ اپنے ملک جرمنی جاتے ہیں تو زیادہ تر وہاں موجود چیزوں کا پاکستانی چیزوں کے ساتھ تقابلی جائزہ پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں اورسماجی رابطوں کے ذریعے اپنا تعلق بھی پاکستانیوں سے برقرار رکھتے ہیں۔