06:16 pm
بھارت بالا کوٹ نہیں بلکہ سیالکوٹ اور کس اہم ترین جنوبی پنجاب کے سیکٹرپر حملہ کرنا چاہتا تھا ؟

بھارت بالا کوٹ نہیں بلکہ سیالکوٹ اور کس اہم ترین جنوبی پنجاب کے سیکٹرپر حملہ کرنا چاہتا تھا ؟

06:16 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت بالا کوٹ نہیں بلکہ سیالکوٹ اور کس اہم ترین جنوبی پنجاب کے سیکٹرپر حملہ کرنا چاہتا تھا ؟ بھارت کا اصل مقصد کیا تھا جو پاک فوج نے ناکام بنا دیا ؟ اصل خبر تو اب آئی ۔۔۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی فوج کو خبردار کرتے ہوئے دعوت دی ہے کہ 21منٹس کا دعویٰ کرتے ہو،آؤ21منٹس رہ کردکھاؤ، سیالکوٹ، لاہور اور بہاولپورسیکٹر میں زیادہ خطرہ تھا،اگرسٹرائیک ہوتی توپھر باقاعدہ لڑائی ہوتی،بھارت کا مقصد فوجیوں پرنہیں سویلین کونشانہ بناتھا،تاکہ دہشتگرد بنا کرپیش کرسکے،اگر اسٹرائیک کی ہے تو300بندوں کی کوئی ڈیڈباڈی یا خون موجود ہوتا۔،لیکن جھوٹ کے توکوئی پاؤں نہیں ہوتے۔بھارتی دراندازی کے بعد انہوں نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ پاک بھارت کشیدگی پلوامہ واقعے سے شروع ہوئی۔وزیراعظم ، وزیرخارجہ اور پھر میں نے بھی پریس بریفنگ میں بتایا کہ پلوامہ واقعے سے متعلق تفصیلاً بتایا ۔ بے وقوف دوست سے عقلمند دشمن بہتر ہوتا ہے۔دشمنی میں بھی بے وقوفی اور جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے حملہ کیا تو ہم سوچیں گے نہیں جواب دیں گے۔ اس کے بعد میں نے بھی تین چیزیں کہیں تھیں۔21منٹس تک وہ پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ کررہے ہیں۔ترجمان پاک فوج نے خبردار کیا کہ ہم ان کو کہتے ہیں کہ آئیں 21منٹس رہ کردکھائیں؟انہوں نے کہا کہ ہماری پوری ایئرفورس ہروقت فضاء میں نہیں رہ سکتی۔ جنگ کی حالت میں زمینی ، فضائیہ اور بحری اپنے اپنے سیف گارڈزلیتی ہے۔ ایئرفورس کی پٹرولنگ ہوتی رہی، ریڈار سسٹم بھی ہمیں بتا رہا تھا کہ کس طرح وہ بارڈر کراس کرتے ہیں۔پہلے بھی وہ بارڈر کے قریب آتے رہے ، لیکن اتنے نہیں آتے تھے کہ حدود کے اندر ہوں۔سیالکوٹ اور لاہور سیکٹر میں خطرہ تھا، بہاولپور میں بھی خطرہ تھا۔ہمارے ریڈار سسٹم نے پک کیا کہ ان کی ٹیم مظفرآباد کو کراس کررہی ہے۔ وہاں پر جاکر ہماری ایئرفورس نے چیلنج کیا اور وہ واپس بھاگ گئے۔ اگر تو وہ اسٹرائیک کرتے تو پھر باقاعدہ لڑائی ہوئی۔اگر ان کا ٹارگٹ ہمارے فوجیوں پر ہوتا تو فوجی یونیفارم میں ہوتے۔بھارت کا یہ مقصد نہیں تھا بلکہ ان کا ٹارگٹ ایسی جگہ تھی کہ سویلین آبادی پر اٹیک کرتے تاکہ وہ دعویٰ کر سکتے کہ ہم نے دہشتگردوں کو مارا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے 300دہشتگرد مارے ہیں لیکن ان کا خون کا کوئی ڈیڈ باڈی تو وہاں موجود ہوتی؟جھوٹ کے توکوئی پاؤں نہیں ہوتے، انہوں نے پہلے بھی اسٹرائیک کرکے جھوٹ بولا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہم سوچیں گے نہیں جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرفورس کا پہلا کام حملے کو ناکام بنانا ہوتا ہے۔ہماری ایئرفورس نے وہی کام کیا اور ان کے حملے کو ناکام بنایا ہے۔

تازہ ترین خبریں