01:33 pm
 خواتین کے مارچوں میں انوکھی تحریر

خواتین کے مارچوں میں انوکھی تحریر

01:33 pm

لاہور (ویب ڈیسک)عورتوں نے مارچ کیا اور مردوں کو بلایا تک نہیں۔ نہ کوئی دعوت نامہ نہ کوئی صاحب صدر۔ پورے ملک میں کوئی ایک مرد بھی ایسا نہ ملا جسے بلوا کر فیتہ کٹوا لیتیں۔ آغاز میں تلاوت کروا لی ہوتی۔ وہاں پر مردانگی کے جنازے بھی اٹھائے گئے۔ اب جنازے بھی خود اٹھانےاور پڑھانے لگیں تو مرد کا آخر کیا کام رہ گیا۔ چلیں مان لیا
کہ عورتوں کے مارچ میں مردوں کا کیا کام لیکن ہمارا دل رکھنے کے لیے کسی جبران ناصر ٹائپ کو بلا لیا ہوتا۔ ہم بھی ٹی وی کے پروگراموں میں جب چھ لوگوں کا پینل ہوتا ہے تو ان میں ایک آدھ عورت ڈال ہی دیتے ہیں۔ اگر پروگراموں میں ایڈجسٹ نہ کر سکیں تو کم از کم وقفے میں جو اشتہار چلتے ہیں ان میں عورتیں ہوتی ہیں۔ کبھی برتن دھو کر خوشی سے بدحال، کبھی وسیم اکرم کی قیادت میں پرانے داغ نکال کر مست۔ آپ لوگوں کو اگر یہ توقع تھی کہ سال میں ایک ہی تو دن ہے۔۔ سارا سال ٹر ٹر کرنے والے مرد اگر ایک دن چُپ کر کے گزارنے کی کوشش کریں اور عورت کی بھی سُن لیں تو یہ ہم سے نہ ہوگا۔ اگر کوئی اس بات پر حیران ہے کہ اتنے سارے مرد موزے ڈھونڈنے والی بات پر کیوں برہم ہیں تو انھوں نے نہ صرف مرد کی شناخت، اُن کی مردانگی، بلکہ تحریکِ پاکستان کے مقاصد اور ہمارے مکمل ضابطہ حیات پر حملہ کیا ہے۔انھوں نے یقیناً کبھی وہ آسمانی صحیفہ نہیں پڑھا جس کا آغاز ہمیشہ اس طرح سے ہوتا ہے کہ ’جب تھکا ہارا مرد گھر واپس آتا ہے۔۔۔‘ اب ہو سکتا ہے کہ مرد گھر سے کہیں گیا ہی نہ ہو، مرد مرد ہے، ٹی وی روم سےباتھ روم تک جاتے ہوئے بھی تھک ہار سکتا ہے۔ جب تھکا ہارا مرد گھر واپس آئے اور موزے نظر نہ آنے کی صورت میں پوچھے کہ ’وہ میری جرابیں کدھر گئیں‘ اور آپ نے کہہ دیا مجھے نہیں پتہ!اس صورت میں تھکے ہارے مرد کے دل سے یہ آواز نکلتی ہے: ’تجھے نہیں پتہ؟ کیا ماں باپ نے تجھے پڑھایا لکھایا اس لیے تھا۔ اس لیے تجھے اسلام نے اتنے حقوق دیے کہ تو مجھے یہ بتائے کہ مجھے نہیں پتہ کہ تمہارے موزے کہاں ہیں؟ کیا ہم نے یہ ملک اس لیے آزاد کرایا تھا، کیا ہندوؤں اور انگریزوں سے آزادی اس لیے حاصل کی تھی کہ اپنے موزے خود دھونڈنے پڑیں!‘ یہ کھانا گرم کرنے کا کیا مذاق ہے؟ جب مرد تھکا ہارا واپس آئے اور میرے جیسے کئی مرد ہیں جو آدھا کلو دہی اور ایک کلو ٹماٹر لینے جاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ غزوہِ ہند پر جا رہے ہیں اور واپس آتے ہیں تو امید کرتے ہیں کہ پھولوں، مسکراہٹوں اور میڈلوں سے اُن کا استقبال کیا جائے۔ مرد سگریٹ کے لیے لائٹر ڈھونڈنے نکلے تو تھک ہار سکتا ہے، اور مرد سے میری مراد چھ سال سے لے کر ستر سال تک کا ہر مرد شامل ہے جس کے مردانہ مذہب کا پہلا اصول یہ ہے کہ کپڑے جہاں اتارو وہیں چھوڑ دو، اگر اٹھا کر الماری میں رکھو گے تو مردانہ مذہب کے دائرے سے اپنے آپ کو خارج تصور کرنا۔ یہی مرد جب ابا کے پیسوں سے خریدے ہوئے موبائل فون پر سارا دن انجانلڑکیوں کی تصویروں پر لائیک مار کر، سارے لفافہ صحافیوں کو’شٹ اپ کال‘ دے کر، ملالہ یوسفزئی کے بارے میں ایک بار پھر ’وٹ شی ڈن فار کنٹری’ لکھ کر جب تھکا ہارا واپس آئے تو مائکروویو کا بٹن بھی خود دبائے؟! کیا یہ ملک ہم نے اس لیے لیا تھا؟ کیا اسلام نے عورتوں کو اتنے حقوق اس لیے دیے تھے؟ ہمارا تھکا ہارا ہیرو ہمیشہ سے یہ سمجھتا آیا ہے کہ تقریر کرنا، جُگت لگانا اُس کا اور صرف اُس کا حق ہے۔ یہ ہیرو نویں جماعت کا انگریزی میڈیم طالب علم بھی ہو سکتا ہے اور ایم اے پاس دفاعی تجزیہ کار بھی۔ عورت مارچ سے سب سے زیادہ سلگی بھی اس لیے کہ عورتوں نے کھل کر جگتیں لگائیں۔ ہمارے تھکے ہارے مردوں میں بھی بڑے انقلابی ہیں لیکن آپ نے دیکھا ہوگا کہ ان کے نعرے ان سے بھی زیادہ تھکے ہارے ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیق کی معراج ’تیرے جانثار بے شمار بے شمار‘ ہے۔ عورت مارچ میں نعروں، مطالبوں اور پوسٹروں کی ایسی نئی بہار دیکھی گئی جو پہلے کسی سیاسی تحریک میں بھی نظر نہیں آئی۔ یہی جگتیں اگر افتخار ٹھاکر لگائے تو ’پرائیڈ آف پرفارمنس‘ پائے اور عورت لگائے تو ہماری تہذیب کی بنیادیں ہل جائیں۔ بیچارا تھکا ہارا مرد گھر واپس آئے اور عورت کو کھلکھلا کر کسی دوسری عورت کی بات پر ہنستا پائے تو یہی سوچے گا کہ یہ ملک ہم نے اس لیے لیا تھا؟ کیا اسلام نے عورتوں کو۔۔۔۔۔(تحریر: محمد حنیف )

تازہ ترین خبریں