03:42 pm
عورت مارچ میں شریک خواتین کو کھری کھری سناڈالیں

عورت مارچ میں شریک خواتین کو کھری کھری سناڈالیں

03:42 pm

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)کئی روز سے جاری خواتین مارچ میں پیش کردہ افکار و نظریات کو ایک اور شدید دھچکا لگ گیا ہے کیونکہ لبرل ازم اور روشن خیالی کے اس میلے کو خود ایسی شخصیات نے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جو نہ صرف روشن خیالی اور آزادی پسندی کے نظریات کی حامی ہیں بلکہ شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھتی ہیں ۔ معروف گلوکارہ اور اداکارہ رابی پیرزادہ بھی میدان میں کود پڑی ہیں اور مارچ میں شریک ایسی خواتین کو شدید تنقید کا نشانہ بنا نا شروع کر دیا ہے
جنھوںنے مردوں اور ان کی معاشرتی حاکمیت کے خلاف انتہائی سخت نوعیت کے بینرز ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے۔۔انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ’ مجھے اپنے لبرل اور ماڈرن ہونے پر شرمندگی ہے، کیوں کہ میں کیسے ایک ایسے مرد کے خلاف ہو سکتی ہوں جو اللہ نے انسانوں میں اپنی پہلی تخلیق بنائی، جس مرد کی خواہش پر عورت کو تخلیق کیا، آپ عورت یہ مت بھولیں،باپ،بھائی کتنا پیارا تعلق ہے۔رابی پیرزادہ نے مرد حضرات کی مزید تعریف میں ایک اور ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے کہا ’ سب سے بڑھ کر تمام انبیاء مرد تھے اور میرے پیارے رسول ؐ (میری جان،مال،ماں،باپ،بچے قربان) ایک مرد تھے۔رابی پیرزادہ نے کہا ’ میں مردوں سے نفرت نہیں کر سکتی، میرا دوپٹہ اور میری چادر اور حیا اس مرد سے ہے، آج میرے پاوٴں تلے جنت اسی مرد کے ہونے سے ہے۔خیال رہے کہ 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین پر پاکستان کے بڑے شہروں میں خواتین کے حقوق کیلئے ریلیاں نکالی گئی تھیں۔ ان ریلیوں کے دوران لگنے والے بعض نعروں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے، بعض نوجوانوں کی جانب سے 24 مارچ کو عورت مارچ کے جواب میں ’ مرد مارچ‘ کے انعقاد کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔