09:32 am
ایک وزیر نے عمران خان کو وارننگ دے دی کہ اگر وزارت تبدیل کی گئی

ایک وزیر نے عمران خان کو وارننگ دے دی کہ اگر وزارت تبدیل کی گئی

09:32 am

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار رؤوف کلاسرا نے کہا کہ غلام سرور خان کی وزارت تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا تھا اور وزیراعظم عمران خان نے غلام سرور خان کے پاس جہانگیر ترین کو بھی بھیجا تھا تاکہ وہ اُن سے کہیں کہ آپ کوئی اور وزارت لے لیں۔ لیکن غلام سرور خان آگے سے ڈٹ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ میری عزت و تکریم کے خلاف ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو پھر چودھری نثار علی خان اُن کو جینے نہیں دیں گے اور کہیں گے
کہ دیکھا آپ تو میری جگہ وزیر لگے تھے ، آپ بھی پٹرولیم کے تھے اور میں بھی پٹرولیم کا وزیر تھا۔ لہٰذا غلام سرور کے لیے اب یہ انا کا مسئلہ بن گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ عمران خان کے آگے ڈٹ گئے ہیں۔انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ میں کہیں نہیں جاؤں گا اور اگر آپ لوگوں نے مجھے نکالا یا میری وزارت تبدیل کی تو میں وزارت سے مستعفی ہو جاؤں گا اور پارٹی بھی چھوڑ دوں گا۔ رؤوف کلاسرا نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ عمران خان جو الیکٹیبلز کی سیاست کر رہے ہیں آگے جا کر انہیں ایسا بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا۔ پروگرام میں موجود عامر متین نے کہا کہ اگر عمران خان خسرو بختیار صاحب سے استعفیٰ مانگیں گے تو آگے سے ان کا بھی یہی جواب ہو گا جو غلام سرور خان کا ہے۔جب ہم الیکٹیبلز شامل کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے تو ان کے جوان ہم پر تنقید کرتے تھے کہ آپ خان صاحب کو حکومت بنانے نہیں دے رہے۔ آپ ان کے خلاف ہیں۔ ہم یہی کہتے تھے کہ جب دوسرے پارٹی کے پلئیرز آئیں گے، ابھی شاہ محمود قریشی نے بھی جو عدالت کی توہین کی بات کی ہے وہ براہ راست عمران خان پر ہی جاتی ہے کیونکہ ان کے کہنے کا مطلب یہی ہے کہ کابینہ اجلاس میں جہانگیر ترین کو بلایا جاتا ہے اور ان سے بریفنگ لی جاتی ہے تو وہ توہین عدالت ہے اور چونکہ جہانگیر ترین کو عمران خان بلاتے ہیں لہٰذا توہین عدالت بھی وہی کرتے ہیں۔یہ بات انہوں نے گورنر پنجاب چودھری سرور کے ساتھ بیٹھ کر کی ہے۔ پی ٹی آئی کا ایک بڑا گروپ یہ سمجھتا ہے کہ اگر شاہ محمود قریشی اور گورنر پنجاب اکٹھے بیٹھ کر پریس کانفرنس کر رہے ہیں اور پریس کانفرنس میں انہوں نے کابینہ اور وزیراعظم عمران خان کو چارج شیٹ کیا ہے اور سپریم کورٹ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ہے تو شاید عمران خان کا پتہ بھی صاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔شاہ محمود قریشی کو بھی متبادل کے طور پر آگے لایا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے مسلم لیگ ن سے اچھے تعلقات تھے ، وہ ان کے صوبائی وزیر تھے ، اور پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ان کے وزیر رہے ہیں۔ ان کے دونوں جماعتوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کو اتفاق رائے سے اُمیدوار نامزد کر لیا جائے جو پارلیمنٹ کو بہتر انداز میں چلا سکے کیونکہ ان کے مطابق عمران خان سے چیزیں نہیں سنبھالی جا رہیں۔

تازہ ترین خبریں