05:24 am
شفہ کا قانون انسانی و آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، چیف جسٹس

شفہ کا قانون انسانی و آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، چیف جسٹس

05:24 am

راولپنڈی (جنرل رپورٹر)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ 22-Aاور22-Bکے خاتمے کے فیصلے پر نظر ثانی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری ترمیم کے بعد کوئی ایس پی کسی ایس ایچ او کیخلاف شہری کی درخواست پر 1ہفتے میں فیصلہ کرنے کا پابند ہو گا اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں کسی مدعی یا شہری کو عدالت سے رجوع کرنے کا پورا حق اور اختیار حاصل ہو گاحالانکہ فیصلہ عدالتوں پر کام کا دباؤ کم کرنے کیلئے کیا گیا تھالیکن وکلاء نے اس فیصلے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ انتقال کے بعدوراثت اور جانشینی کے قانون میں تبدیلی کر کے اسے انتہائی سہل بنایا جائے گا کسی بھی شہری کووراثت اور جانشینی کے لئے عدالتوں میں الجھانے کی بجائے محض نادرا سرٹیفکیٹ پر انحصار کیا جائیگا شفہ کا قانون بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے اس بلیک میلنگ کو جلد ختم کیا جائے گاان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے نومنتخب عہدیداروں سے ملاقات کے دوران کیا ملاقات کرنے والے وفد میں ہائی کورٹ بار کے صدرملک غلام مصطفےٰ کندوال ، سیکرٹری جنرل محمد فیصل ملک، سینئر نائب صدر سید حسنین علی کاظمی، نائب صدر راجہ منیر احمداور جوائنٹ سیکرٹری فرزانہ عزیز کے علاوہ ایگزیکٹو باڈی کے اراکین بھی شامل تھے چیف جسٹس نے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے یقین دلایا کہ عدلیہ میں نئی تقرریوں میں راولپنڈی ڈویژن کے وکلا کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا انہوں نے 22-Aاور22-Bکے خاتمے پربار کے تحفظات کے جواب میں کہا کہ اس بات کا فیصلہ عدالتوں پر کام کا دباؤ کم کرنے کے لئے کیا گیا تھا لیکن ملک بھر کے وکلا کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں ترمیم کا کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت کوئی ایس پی کسی ایس ایچ او کے خلاف شہری کی درخواست پر 1ہفتے میں فیصلہ کرنے کا پابند ہو گا اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں کسی مدعی یا شہری کو عدالت سے رجوع کرنے کا پورا حق اور اختیار حاصل ہو گا انہوں نے کہا کہ وکلا نے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو سمجھے بغیر احتجاج کا راستہ اپنا لیا انہوں نے کہا کہ بہت جلد ایسا نظام وضع کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کا بنچ یہاں بیٹھ کر کسی بھی مقدمہ میں لاہور، کراچی اور کوئٹہ سے وکلا کے دلائل اور بحث سن سکے گا اسی طرح جوڈیشل اکیڈ می میں جلد وکلا کے لئے ریفرشر کورس شروع کئے جائیں گے تاکہ وکلا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے جبکہ وکلا کی تربیت کے لئے جوڈیشل اینڈ جسٹس کمیشن سے فنڈز فراہم کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ ملک سستے اور فوری انصاف کے لئے عدالتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں اور عدلیہ کا سربراہ ہونے کے ناطے عدالتی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنامیری اولین ترجیح ہے انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ وہ مقدمات کے غیر ضروری التوا کے خاتمے کے لئے ہر سطح پر عدلیہ سے تعاون کریں انہوں نے کہ جلد تمام عدالتی نظام کو آئی ٹی سے منسلک کیا جائے گا۔ قبل ازیں بار ایسوسی ایشن کے وفد نے چیف جسٹس کو وکلا کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ میں نئی تقرریوں میں راولپنڈی ڈویژن کے وکلاکو نظر انداز کیا جارہا ہے اس موقع پر وفد نے چیف جسٹس کو 22-Aاور22-Bسمیت دیگر تحفظات سے تفصیلی آگاہ کیا۔ چیف جسٹس