05:25 am
ریٹ بڑھنے کی امیدپر ڈالرمہنگاہوا،منی چینجرز پریشان،اضافی عارضی ہے(اسٹیٹ بینک حکام)

ریٹ بڑھنے کی امیدپر ڈالرمہنگاہوا،منی چینجرز پریشان،اضافی عارضی ہے(اسٹیٹ بینک حکام)

05:25 am

تین کالم ریٹ بڑھنے کی امیدپر ڈالرمہنگاہوا،منی چینجرز پریشان،اضافی عارضی ہے(اسٹیٹ بینک حکام) حکومت نے تسلیم کیا آئی ایم ایف کہتا ہے مرکزی بینک ریگولیٹ نہ کرے،وفددورہ سے قبل ریٹ 138روپے 50 پیسے تھا 80 فیصدگاہک ڈالرخریدار ہیں،حج،عمرہ کی وجہ سے بھی ڈالرسپلائی کم ہوئی،صدر فاریکس ملک بوستان،ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے ملاقات کراچی(بزنس رپورٹر)فاریکس ایسو سی ایشن آف پاکستان اور دیگر منی چینجرز نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے فری مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ بڑھنے اور ڈالر کی قلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔فاریکس ایسو سی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک محمد بوستان نے دیگر ایکسچینج کمپنیوں کے ہمراہ جمعرات کو اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فارن ایکسچینج سید عرفان علی شاہ سے ملاقات کی۔ملک بوستان نے سیدعرفان علی شاہ کوبتایا کہ ڈالر کار یٹ بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ تو انٹر بینک ہے کیونکہ آئی ایم ایف کے وفد کا دورہ کرنے سے پہلے 5مارچ کو ڈالر کا ریٹ 138روپے 50 پیسے ڈالر تھا جو کہ گزشتہ ایک ماہ میں 3روپے بڑھ کر 141روپے 50 پیسے فی ڈالر ہوگیاج،اس کی وجہ سے فری مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ بڑھ گیا، اس کے علاوہ حکومت نے خود یہ تسلیم کیا ہے کہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک ڈالر کو ریگولیٹ نہ کرے اسے مکمل فری فلوٹ کیا جائے گا اور انٹر بینک، مارکیٹ ڈیمانڈ اور سپلائی کے تحت ڈالر خود اپنا ریٹ تعین کریگا۔ اس وجہ سے اب ڈالر فروخت کرنے والے ریٹ بڑھنے کی امید پر اپنے ڈالر فروخت نہیں کر رہے اور خریدنے والے جلد از جلد ڈالر خریدنا چاہتے ہیں تاکہ ڈالر کا ریٹ بہت زیادہ نہ ہوجائے ج، اس وقت 80فیصد کسٹمرز ڈالرخریدنے والے ہیں اور 20فیصدفروخت کرنے والے ہیں۔ملک بوستان نے مذکورہ اجلاس میں بتایا کہ اس سال تقریباََ 20لاکھ کے قریب عازمین حج اور عمرہ کے لئے جائیں گے، اگر فی کس کم از کم 2ہزار ڈالر کے حساب سے بھی خریداری کا لگایا جائے تو تقریباََ 6ارب ڈالر کے برابر یہ عازمین سعودی ریال خریدتے ہیں،اس وقت کیونکہ حج اور عمرہ سیزن شروع ہوچکا ہے ان دنوں وہ لوگ بھی بہت زیادہ سعودی ریال خرید رہے ہیں اس وجہ سے سرپلس سعودی ریال کی سپلائی 70فیصدکم ہوگئی ہے، اس سے پہلے روزانہ ہمارے تقریباََ 10سے 12ملین سعودی ریال ایکسچینج کمپنیوں کے کاؤنٹر پر کسٹمر ز فروخت کرنے آتے تھے جنہیں ہم دبئی ایکسپورٹ کر کے روزانہ تقریباََ 3سے 4ملین ڈالر واپس پاکستان لاکر کسٹمرز کو فروخت کرتے تھے۔ انکاکہنا تھا کہ آجکل صرف مشکل سے 5سے 6ملین سعودی ریال آرہے ہیں ان میں سے زیادہ تر حج عمرہ کے لیئے جانے والے عازمین خرید رہے ہیں جسکی وجہ سے ڈالر کی سپلائی کافی حدتک کم ہوچکی ہے جبکہ ڈیمانڈ دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ملک بوستان نے انہیں بتایا کہ گزشتہ روز میڈیا میں ایڈوائزری کونسل کے ممبرڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا ہے کہ جون تک ڈالر کا ریٹ 150روپے ہوجائیگا۔ اس طرح کے بیانات سے بھی پبلک میں منفی پیغام جاتا ہے حکومت کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں جس کی وجہ سے لوگ ڈالر میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور ڈالر کا ریٹ دن بہ دن بڑھ رہا ہے، فائیلر اور نان فائیلر کی وجہ سے اس وقت عوام کے پاس سوائے ڈالر،گولڈ اور پرائزبانڈ میں سر مایہ کاری کرنے کے کوئی آپشن نہیں ہیں ،پراپرٹی اور آٹومیں پہلے ہی فائلر کی پابندی کی وجہ سے لوگ سرمایہ کاری نہیں کررہے، جب تک انٹر بینک میں ڈالر کا ریٹ کنٹرول نہیں ہوگا اس وقت تک ڈالر کا ریٹ بڑھتا رہیگا، فری مارکیٹ انٹر بینک کو فالو کر رہی ہے۔ملک محمد بوستان نے حکومت کو تجویز دی کہ گزشتہ حکومت نے بیرون ملک پاکستانیوں کو جو ایمنسٹی اسکیم دی تھی اس اسکیم کے تحت پاکستانیوں نے 100ارب ڈالر کے مساوی بیرون ممالک اپنی پراپر ٹی اور Assetظاہر کیئے اور تقریباََ 16 ارب ڈالر کے برابر انویسمنٹ ظاہر کی ہے۔ ان لوگوں کو وزیراعظم پاکستان خصوصی دعوت دیں اور انہیں کہا جائے کہ وہ یہ انوسمنٹ بیرون ممالک کے بینکوں کی بجائے پاکستانی بینکوں میں لیکر آئیں۔ انہیں اس پر خصوصی انویسمنٹ انٹرسٹ دیا جائے۔اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عرفان علی شاہ نے کہا کہ انٹر بینک میں گزشتہ ہفتے کچھ بڑی پے منٹ کرنی تھیں جو مکمل ہوچکی ہیں اب روپیہ مزید ڈی ویلیو نہیں ہوگا، نہ ہی حکومت کا کوئی ارادہ ہے، انٹر بینک میں جب ڈالر کی ڈیمانڈ زیادہ ہوگی تو وقتی طور پر ریٹ بڑھے گا اس کے بعد خود بہ خود کم بھی ہوگا جیسا کہ آج، کل کی نسبت انٹر بینک میں ڈالر کا ریٹ کم ہوا، آئندہ آنے والے دنوں میں مزید کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگلے سال تک ہمارا تجارتی خسارہ 18ارب ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 12ارب ڈالر تک آجائے گا اور ہماری ایکسپورٹ 23ارب ڈالر سے بڑھ کر 28ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ دوست ممالک جن میں سعودی عرب،دبئی، ملائیشیا ء ، سنگاپور، آسٹریلیا اور چین اگلے سال 20سے 30ارب ڈالر کی سر مایہ کاری کرینگے جس سے ڈائریکٹ انویسمنٹ میں اضافہ ہوگا اس طرح حکومت ور کر رمیٹنس کو بڑ ھانے کے لیئے اسکلڈورکر کو بیرون ممالک بھیج رہی ہے اس سے ور کر رمیٹنس 18ارب ڈالر سے بڑ ھ کر 25ارب ڈالر تک چلی جائے گی۔ ڈالر ریٹ

تازہ ترین خبریں