05:27 am
انکم ٹیکس کے 10ہزار 982کیس آڈٹ کیلئے منتخب

انکم ٹیکس کے 10ہزار 982کیس آڈٹ کیلئے منتخب

05:27 am

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آڈٹ پالیسی 2018 کے تحت انکم ٹیکس 4لاکھ 77ہزار 374کیسوں میں سے 10ہزار 982کیسوں کو آڈٹ کیلئے منتخب کیا ہے، سیلز ٹیکس کے 1لاکھ 24ہزار کیسوں میں سے 3126 کیسوں کو منتخب کیا گیا، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے 725کیسوں میں 56کیسوں کو منتخب کیا گیا ہے۔وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر نے کہا کہ حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ مل ٹیکس دہندہ گان میں اضافہ کیا جائیگا،مستقبل میں ٹیکس دہندگان کیلئے آسانیاں اور نان فائلرز کیلئے مشکلات ہونگیں، نان فائلر کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔جمعرات کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں آڈٹ کیلئے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کا افتتاح آڈٹ پالیسی 2018 کے تحت کیا گیا اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان نے کہا کہ 2018 کی آڈٹ پالیسی کا اجراء ہورہا ہے جس میں ایسے فیچرز ہیں جس سے آڈٹ کے نظام کو بہتر بنایا جارہا ہے، آڈٹ ایف بی آر کا اہم جز ہے، ٹیکس دہندگان سے تمام کمیونیکیشن اسی نظام کے تحت ہوگی، ہائی رسک کیسوں کا پتہ اسی نظام سے چلے گا، رسکی کیسوں پر ہی آڈٹ ہو، ایف بی آر کی ذمہ داری ہے کہ رسکی کیسوں کا آڈٹ کرے، اس سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز کے کیس شامل ہونگے، ٹیکس پیئرز کو بھی غیر ضروری آڈٹ سے بچایا جائے۔ وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر نے کہا کہ اس مرتبہ آڈٹ کیلئے منتخب کئے گئے کیسوں میں کوانٹٹی سے زیادہ کوالٹی کو مدنظر رکھا گیا ہے، سرمایہ کاروں کی سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے، آڈٹ کیسوں کی تعداد 9.5 فیصد سے کم کرکے 2.2 فیصد، سیلز ٹیکس کیسز کو 7.5فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے کیسوں کو 8.6 فیصد سے کم کرکے 8.3 فیصد کردیا گیا ہیں، 43ہزار کیسوں کو کم کرکے 14ہزار پر لیکر آئے ہیں، فیلڈ آفسز کی طرف جاری کئے گئے نوٹس کا جائزہ لیا جائے گا، ہر نوٹس کی معلومات، وصولی کی تفصیلات اور افسران کی کارکردگی کو دیکھا جائے گا۔ نادرا کی طرف سے دیئے گئے اعدادوشمار معیاری نہیں تھے، اس ڈیٹا حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر مزید کام کررہے ہیں، ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ کررہے ہیں، مستقبل میں ٹیکس دہندگان کیلئے آسانیاں اور نان فائلرز کیلئے مشکلات ہونگیں، نان فائلر کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں