03:12 pm
شہباز شریف سنتے ہی پریشان

شہباز شریف سنتے ہی پریشان

03:12 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )شہباز شریف سنتے ہی پریشان ۔۔ نیب نے پاکستان کے ایسے انتہائی معروف وکیل کی خدمات حاصل کر لیں کہ جو اپنی چند باتوں سے ہی لوگوں کو زیر کردیتا ہے ۔۔۔ نیب نے سینئر قانون دان نعیم بخاری کی خدمات حاصل کرلیں، نعیم بخاری نیب میں زیرتفتیش شہبازشریف، فواد حسن فواد اور احد چیمہ کے کیسز میں وکیل ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے سینئر قانون دان نعیم بخاری کی خدمات حاصل کرلیں، نعیم بخاری سپریم کورٹ میں کرپشن کیسز کے حوالے سے نیب کی معاونت کریں گے۔ نعیم بخاری سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ، سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم فواد حسن فواد اور سابق چیئرمین ایل ڈی اے احد چیمہ کے کیخلاف مقدمات کو نمٹائیں گے۔ نیب کا پراسیکیوشن ڈویژن ایڈووکیٹ نعیم بخاری کومعاونت فراہم کرے گا۔اس سے قبل سینئر قانون دان نعیم بخاری پاناما کیس میں بھی نوازشریف کے خلاف وکالت کرچکے ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی قیادت کے کیسز میں بھی ان کے وکیل رہ چکے ہیں۔ دوسری جانب احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ دونوں رہنمائوں کے خلاف اختیارات کا غلط استعمال اور عوامی فنڈز کے غیر قانونی استعمال کے الزام عائد کیے گئے تاہم دونوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا ، عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کوشہادتوں کے لئے طلب کر لیا۔ منگل کے روز احتساب عدالت کے منتظم جج سید نجم الحسن بخاری نے رمضان شوگر ملز ریفرنس کی سماعت کی، اس دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے۔شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی طرف سے انکے وکیل امجد پرویز اور نیب کی جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے دلائل دیئے ۔سماعت کے دوران نیب وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ آج رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد ہونا ہے، اس پر جج نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ رمضان شوگر ملز ریفرنس کیا ہی ۔اس پر نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے کہا کہ رمضان شوگر مل کے نالے بنانے میں عوام کا پیسہ استعمال کیا گیا،یہ اختیارات سے تجاوز کا کیس ہے۔جس پر کمرہ عدالت میں موجود شہباز شریف نے کہا کہ نیب نے غلط کیس بنائے ہیں۔ اس پر جج نے کہا کہ آپ انتظار کریں آپ کو سب کچھ کہنے اور سنانے کا موقع دیا جائے گا، یہ قانونی اور پروسیجرل چیزیں ہیں جو قانون کے مطابق ہونی ہیں۔ تاہم شہباز شریف نے کہا کہ خدا جانتا ہے کہ میں نے 10 سالوں میں حکومت کے کئی سو ارب روپے بچائے ہیں۔ کیا میں نے نالے کے لئے سرکاری خزانہ استعمال کرنا تھا؟ میں نے اس نالے میں کچھ نہیں کیا نہ کوئی غلط پیسہ استعمال ہوا۔جس پر عدالت نے کہا کہ ابھی آپ پر الزام ہے جسے ثابت ہونا باقی ہے۔عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی تاہم دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے دستخط کر کے عدالتی دستاویزات پر انگوٹھے کے نشان بھی لگا دیئے۔

تازہ ترین خبریں