01:38 pm
مستعفی ہونے والےوزراء نے وزیر اعظم عمران خان کو سرپرائز اور جھٹکا ایک ساتھ دے ڈلا ،

مستعفی ہونے والےوزراء نے وزیر اعظم عمران خان کو سرپرائز اور جھٹکا ایک ساتھ دے ڈلا ،

01:38 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )مستعفی ہونے والے اسد عمر ، شہریار آفریدی، فواد چوہدری اور عامر کیانی نے وزیر اعظم عمران خان کو سرپرائز اور جھٹکا ایک ساتھ دے ڈلا ، کیا کام کر دیا ؟ جانیں ۔۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں سابق وزیرخزانہ اسد عمرشریک نہیں ہوئے، پی آئی آئی کے اہم اجلاس میں سینئر رہنماء اسد عمر کی عدم شرکت سے ناراضگی کھل کرسامنے آگئی،اسد عمر کا کہنا کہ وزیراعظم کے ساتھ کھڑا ہوں
پھر نئے پاکستان کی تعمیرسے متعلق اہم اجلاس میں شرکت نہ کرنا پارٹی قیادت سے ناراضگی کی عکاسی کرتا ہے۔لیکن وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اہم اجلاس میں اسد عمر کی عدم شرکت سے پارٹی کارکنان بھی مایوسی کا شکار ہیں، پارٹی کے ایسے نظریاتی کارکنان جو اسد عمر سے امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کا سب سے اہم کھلاڑی اسد عمر پاکستان کی تقدیر بدلے گا، معیشت کو مضبوط کرے گا، پچاس گھروں کی تعمیر سمیت ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ جس کا اعلان پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں کررکھا ہے، اس وعدے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا لیکن اسد عمر کے وزارت خزانہ سے مستعفی ہونے سے کارکنان کو شدید دھچکا لگا ہے۔ تاہم اسد عمر اگر کپتان کے ساتھ کھڑے ہیں توپھر انہیں وزارت کو نہیں کپتان کودیکھنا چاہیے تھا، اور پارٹی اجلاس میں شریک ہوکر پارٹی سے اپنی وابستگی کو ظاہر کرنا چاہیے تھا۔لیکن ان کے پارٹی کے اہم اجلاس میں شرکت کی بجائے ایک روز قبل اسلام آباد سے کراچی چلے جانا ناراضگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں سابق وزیرمملکت شہریار آفریدی ، سابق وزیراطلاعات فواد چودھری اور سابق وزیرصحت عامر کیانی نے بھی شرکت نہیں کی۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بنی گالہ میں آ ج پارٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں جہانگیرترین، عمر ایوب، عبدالرزاق داؤد، پرویز خٹک، فیصل جاوید، فیصل واوڈا، شیخ رشید، فردوس عاشق اعوان،عثمان ڈار، خسروبختیار،ندیم افضل چن،شہزاداکبر،افتخار درانی،حماد اظہر سمیت وفاقی وزراء ، مشیران ، معاونین خصوصی نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان پارٹی ترجمانوں کو پارٹی کے لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے۔اسی طرح اجلاس میں پارٹی بیانیہ سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔ملکی معیشت اور سیاسی صورتحال کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔معاشی استحکام سے متعلق اقدامات سے پارٹی کو آگاہ کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں