03:23 pm
کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ سے تحریک انصاف میں پھوٹ پڑگئی،

کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ سے تحریک انصاف میں پھوٹ پڑگئی،

03:23 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف ماضی میں بھی دھڑے بندیوں کا شکار رہی ہے۔حکومت میں آنے سے قبل بھی تحریک انصاف کو پارٹی میں اندرونی لڑائیوں کا سامنا تھا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا جاتا تھا کہ تحریک انصاف میں دو گروپس یعنی کے جنگیرترین گروپ اور شاہ محمود قریشی گروپ ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی لڑائیاں بھی خبروں کی زد میں رہی ہیں
۔حالیہ دنوں میں وفاقی کابینہ میں ردوبدل کیا گیا۔اچانک وفاقی کابینہ میں اتنی بڑی تبدیلی کی مختلف وجوہات بتائی جارہی ہیں جن میں سے ایک تحریک انصاف کی اندرونی لڑائیاں بھی ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف میں کچھ رہنما جہانگیر ترین کے حامی ہیں جبکہ کچھ رہنما شاہ محمود قریشی کے حامی ہیں۔اسی حوالے سے نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری جنگیرترین گروپ کے اہم رکن ہے۔ان کو شکوہ تھا کہ ان کے پاس وزارت کا مکمل کنٹرول نہیں ہے اور سابق مینیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک ارشد خان کی سنتے نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق ایم ڈی پی ٹی وی کے معاملے پر ان کے اختلافات وزیراعظم ہاؤس یعنی کے پی ایم آفس کی طاقتور شخصیت وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق سے ہو گئے۔نعیم الحق نے ارشد خان کو کھل کھل کر سپورٹ کیا جب کہ فواد چوہدری ارشد خان کو ہٹائے جانے تک ان کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری کو پچھلے ماہ ہی ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا اور ان کی جگہ بابر اعوان کو مشیر اطلاعات بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم یہ فیصلہ ان کے نیب کیس سے کلیئرنس سے مشروط تھا۔بابر اعوان نے پہلے 25 اور 30 مارچ کی تاریخ وزیراعظم کو دی تھی کہ وہ تب نیب سے کلیئر ہوجائیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔اس کے بعد 2017 میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والی فردوس عاشق عوان کو ترجمان وزیراعظم بنانے کی پیشکش کی گئی تاہم یہ پیشکش انہوں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیا کہ میڈیا ٹیم کے دو افراد ان کے ماتحت کام کرتے رہے ہیں۔ایک سینئر صحافی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا کھل کر دفاع کرنے والے وزراء کو سائیڈ لائن کیا گیا ہے جن میں فواد چوہدری، اسد عمر اور فیاض الحسن چوہان شامل ہیں۔لیکن اس تمام صورتحال میں ایک بات کہی جاسکتی ہے کہ تحریک انصاف کی اندرونی لڑائیوں کی وجہ سے ملک کو کافی نقصان ہو رہا ہے۔کیونکہ وزیراعظم عمران خان کے وزرا کے آپس کے اختلافات ختم نہیں ہو رہے تو وہ ملک کی خدمت کیا کریں گے۔یہ بات سچ ہے کہ گذشتہ حکومت نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا تاہم تحریک انصاف نے حکومت کا برا حال کر دیا۔

تازہ ترین خبریں