02:32 pm
مشہور بین الاقومی مصنف نے اپنی کتاب میں انکشافات کر ڈالے

مشہور بین الاقومی مصنف نے اپنی کتاب میں انکشافات کر ڈالے

02:32 pm

لاہور (آئی این پی ) یونیورسٹی آف پنجاب میں گلوبل اینڈ اسٹریجک اسٹڈی اسلام آباد کے تعاون سے انڈرگریجویٹ سنٹر میں دی بیٹریال آف انڈیا کتاب کے مصنف ایلس ڈیوڈسن کیساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا۔تقریب میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈین ڈاکٹر تقی زاہد بٹ،فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹرافتخار چاولہ ،رجسٹرار ڈاکٹر خالد خان ،ممبر ایڈوائزری بورڈ بریگیڈئیر ریٹائرڈ منصور سعیداور دوسرے سینئر فیکلٹی ممبران نے حصہ لیا۔
ڈاکٹر تقی زاہد بٹ نے بھارتی فورسز کی طرف سے جعلی پرچم آپریشن کی ٹائم لائن کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسزڈرامائی کارروائیاں ڈالنے کی عادی ہیں اور جعلی پرچم آپریشن کی پوری طرح تیاری کے لیے بھی کاما ہوٹل اور تاج ہوٹل میں حملہ آور سے باقاعدہ شوٹنگ کرائی گئی جس کے بارے میں ایلس ڈیوڈسن نے اپنی کتاب میں تکنیکی ثبوت اور اعدادوشمار کیساتھ تمامتر جھوٹی پرچم کشائی کی کارروائیوں کی تفصیل بیان کردی ہے ۔بریگیڈئیر ریٹائرڈ منصورسعید نے کہا کہ پرچم آپریشن ایک خفیہ آپریشن تھا جوکہ دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے ڈیزائن کیاگیاتھااور اس میں واضح کیاگیا تھا کہ کس طرح کوئی خاص جماعت ،گروہ یا قوم کچھ سرگرمیوں کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔انھوں نے پرچم آپریشن کی تاریخی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پرچم کشائی کے واقعے کو بھی پاکستان کیخلاف استعمال کیااور پاکستان کو بدنام کرنے کی اپنی روش اور پالیسی پر عمل پیرا ہوکر جھوٹی الزام تراشی کی۔انھوں نے پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ کے لیے جھوٹے آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے طیارہ ہائی جیکنگ ،سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے ،ممبئی حملے ،پٹھانکوٹ ائیربیس حملے ،اڑی حملے اور پلوامہ حملے بھی اپنے پراپیگنڈہ ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو دبا میں لانے کے لیے مختلف نوعیت کے ڈرامے رچائے جن کو کتاب کے مصنف ایلس ڈیوڈسن نے بڑی تفصیل کیساتھ بیان کرتے ہوئے ان حملوں کے پس پردہ محرکات کو بے نقاب کرکے اصل حقائق بھی بیان کردئیے ہیں جن کا مقصد بھارت کے فوجی بجٹ میں اضافے کے لیے جواز پیش کرنا تھااور عوامی پالیسی کو منتقل کرکے بھارتی اسلحہ سازی صنعت کے فروغ کے لیے راہ کو ہموار کرنا تھا۔انھوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو موردالزام ٹھہرانے کے لیے جو دستاویزی ثبوت مرتب کیے وہ بھی خودساختہ اور جعلی تھے ۔بھارت نے عسکریت پسندوں اور ہینڈلرز کے مابین ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کا ریکارڈ اردو کی بجائے ہندی زبان میں مرتب کیا ،اس لیے بھارت کی پیش کردہ یہ فون کال بھی جعلی ہے اور اس الزام کو ثابت نہیں کرتی ۔اسی طرح طیارہ ہائی جیکنگ ،سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے ،ممبئی حملے ،پٹھانکوٹ ائیربیس حملے ،اڑی حملے اور پلوامہ حملے کے پیش کردہ ثبوت بھی حقیقی اور درست نہیں تھے اوربھارت کے پیش کردہ تمام تر ثبوتوں سے یہ بھی واضح نہیں ہوسکتا کہ ان حملوں میں پاکستانی ملوث تھے ۔اس لیے بھارت کے ناقابل اعتبار ثبوتوں کی بنا پر عائد کردہ الزامات کی سچائی بھی مشکوک ہوجاتی ہے ۔کتاب کے مصنف ایلس ڈیوڈسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ انکی تصنیف کا مقصدسچائی کی تلاش تھااور وہ تمام تر معاملات کا جائزہ لینے اور تحقیق کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ بھارت نے پاکستان پر ناجائز الزام تراشی کرتے ہوئے غلط الزامات لگائے اور بھارتی موقف سراسر جھوٹ پر مبنی تھا۔ایلس ڈیوڈسن نے کہا کہ بھارت ممبئی حملوں کا اختتام اور فیصلہ بھی اس لیے نہیں چاہتا کیونکہ بھارت اس معاملے کو مختلف عالمی فورمز پراٹھاکر اپنے مخصوص مقاصدحاصل کرنا چاہتا ہے،تقریب کے دوران سوالات وجوابات کا سیشن بھی منعقد ہوا۔

تازہ ترین خبریں