05:50 am
 ٹیکسوں میں اضافہ ظالمانہ اقدام، مسائل حل نہ ہوئے تو احتجاج کریں، انجمن تاجران

ٹیکسوں میں اضافہ ظالمانہ اقدام، مسائل حل نہ ہوئے تو احتجاج کریں، انجمن تاجران

05:50 am

بنوں(بیورورپورٹ) اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اصل وارث تاجر ہیں تجارت پیشہ پیغمبری ہے اس ملک میں ہر شعبے کیلئے پالیسی ہے لیکن تاجروں کیلئے کوئی پالیس نہیں اگر حکمران تاجروں کے ساتھ مل بیٹھ کر پالیسی بنائیں تو دوسرے ممالک سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ہوگی بنوں سمیت کسی بھی شہر کے تاجروں کے جائز مطالبات تسلیم نہ کئے گئے اور انکے مسائل حل نہ کئے گئے تو پورے پاکستان میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کردیں گے ان خیالات کا اظہاربنوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منعقدہ صوبائی تاجر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران آل پاکستان کے صدر خالد پرویز ،چیئرمین شوکت علی،جنرل سیکرٹری عبدالرزاق بابر،صوبائی صدر شرافت علی مبارک،پشاور کے صدر حاجی افضل،بنوں چیمبر آف کامرس کے صدر شاہ وزیر خان،غلام قیباز خان نیوز سبزی منڈی فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری حاجی ملک فلک ناز سورانی،شیر قیوم،،غلام ربانی ودیگر مقرین نے کیا انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ بنوں میں پراپرٹی ٹیکس میں کیا گیا 800فیصد اضافے کا ظالمانہ فیصلہ فوری واپس لیا جائے کیونکہ مہنگائی میں 200سے 500فیصداضافہ ہوا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں ہر سال صرف10فیصد اضافہ کیا جاتا ہے نام نہاد تاجر لیڈروں کی وجہ سے اس ملک میں تاجروں کے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں اگر تاجر آپسمیں متحد رہیں اور اتفاق کا مظاہرہ کریں تو اس ملک میں تاجروں سے بڑی کوئی قوت نہیں ہے تاجروں کی مرضی سے حکومتیں بنتی اور گرتی ہیں،بنوں کے عوام نے ملک میں امن کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور تاریخ نے پٹھانوں کو بہادر قوم کا لقب دیا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ بنوں کے عوام آج کے اس جدید دور میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور بنوں شہر گردوغبار کا ڈپو بن گیا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں مثالیں تو یورپ کی دی جاتی ہیں لیکن اس ملک میں تاجروں کو کوئی ریلیف اور مراعات نہیں دی جاتی ہیں ۔ صوبوں میں پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی نہیں لیکن اس صوبے میں ہے اسی طرح دودھ کا کاروبر کرنے والوں کو تنگ کیا جاتا ہے مصالحے کا کاروبار کرنے والوں وک تنگ کیا جاتا ہے انہوں نے وزیر اعظم پاکستان اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپریشن ضرب عضب میں وزیرستان کے عوام اور تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور ان کے نام پر ملنے والی امداد گھر کی دہلیز پر پہنچاکر وزیرستان میں فوری طور پر اعلیٰ تعلیمی ادارے،صحت کے ادارے،کارخانے،سڑکیں تعمیر کرکے وزیرستان کی آباد کاری کا عمل تیز کیا جائے ۔ آج غریب عوام پس رہے ہیں غریب گھروں کی لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھروں پر بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہیں

تازہ ترین خبریں