01:22 pm
اپنے بچوں کو بھوکا نہ سلائیں،پیسے نہیں ہیں تو سبزی مفت لے جائیں

اپنے بچوں کو بھوکا نہ سلائیں،پیسے نہیں ہیں تو سبزی مفت لے جائیں

01:22 pm

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں کئی ایسے افراد ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔پاکستان سمیت کئی ممالک میں ایسی صورتحال ہے کہ امیر شخص امیر سے امیر تر جب کہ غریب شخص غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں امیراور غریب کے درمیان طبقاتی فرق بڑھنے لگا، دیہات میں 80 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ورلڈ بینک ک رپورٹ کے مطابق شہری کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں اب تک صحت سمیت دیگر بنیادی سہولیات ناپید ہیں، 80فیصد دیہی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہی ہے۔
پاکستان میں کئی ایسے خاندان ہیں جہاں ایک کمانے والا شخص ہوتا ہے لیکن اس کی اتنی آمدنی نہیں ہوتی کہ وہ اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی کھلا سکے۔ایسے میں صاحب حیثیت افراد کا فرض بنتا ہے کہ وہ غریب افراد کا خیال رکھیں،اس حوالے سے ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے ۔تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سبزی والے نےب اپنی دکان پر بینر لگا رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ " اپنے بچوں کو بھوکا نہ سلائیں اگر پیسے نہیں ہیں تو سبزی مفت لے جائیں"۔یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔جس پر تبصرہ کرتے ہوئے صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سبزی والے کی بھی اتنی آمدنی نہیں ہوتی تاہم اس جذبہ قابل قدر ہے اگر یہی جذبہ دیگر لوگ دکھائیں تو کوئی غریب بھی رات بھوکے پیٹ نہیں سوئے گا،صارفین کا کہنا ہے کہ غریب افراد کی مدد کرنا ہمارا مذہبی و اخلاقی فریضہ ہے۔کئی ایسے غریب خاندان ہے جن کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔ ہم اپنے آس پاس گلی محلوں میں رہنے والے ان غریب اور مسحق افراد کی مددکرنی چاہئیے۔ جو کسی مجبوری کی تحت روزی نہیں کماسکتے ہیں۔ مخیرحضرات اپنی زکوات و خیرات سے غریبوں کا خیال رکھیں۔صارفین کا کہنا ہے کہ اپنے لیے تو ہر کوئی بہتر کپڑے لیتا ہے اور مہنگے مہنگے کپڑے لیتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جن کے دلوں میں انسانیت کا درد ہے۔پسے ہوئے طبقے کے لوگوں کے گھریلو مساہل حل کرنا ہم سب کی زمہ داری ہے۔