05:28 am
(موبائل کارڈ ٹیکس کٹوتی ,حکومت مسئلے کا حل نکالے) ریاست کو شہریوں کیساتھ مخلص ہونا چاہئے (سپریم کورٹ)

(موبائل کارڈ ٹیکس کٹوتی ,حکومت مسئلے کا حل نکالے) ریاست کو شہریوں کیساتھ مخلص ہونا چاہئے (سپریم کورٹ)

05:28 am

اسلام آباد ( نیوز رپورٹر) عدالت عظمیٰ نے موبائل فون ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریما ر کس دیئے ہیں کہ ٹیکس معاملات میں ریاست کو ایمانداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے نہ کہ عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی ہے ۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو چیف جسٹس نےٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کے طریقہ کار کو تمام شہریوں کیلئے آسان بنانے کی ضرروت ہےتاکہ شناختی کارڈ سے پتہ چل سکے کہ کون ٹیکس دہندہ ہے اور کون نہیں لیکن اس مسئلے کا حل ہمارے پاس نہیں آپ ہمیں اس مسئلے کو حل کرنے کا یقین دلاسکتے ہیں، قانون میں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ہر شہری ٹیکس دینے کے قابل ہے حکومت کو ایسا میکنزم بنانا چاہیے کہ انکم ٹیکس نہ دینے والوں کو سرٹیفکیٹ نہ لینا پڑے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست یہ سمجھتی ہے کہ شہری خود نشاندہی کرے گا کہ وہ ٹیکس دے یا نہیں، کتنے لوگ ہیں جو ایڈوانس ٹیکس کا ریفنڈ مانگتے ہیں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کب کہاں کتنا ٹیکس لگانا ہے ؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حکومت نے اس قانون کا صحیح نفاذ کیا ہے یا نہیں ؟ اس قانون کی وجہ سے بہت بڑی رقم عوام کی جیبوں سے نکالی گئی ۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ موبائل کارڈ پر ہر صارف کو ایڈوانس ٹیکس دینا ہوتا ہے جس صارف پر انکم ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا وہ ریفنڈ لے سکتا ہے۔ پی ٹی اے کے وکیل نے اس موقع پربتایاکہ سپریم کورٹ نے صرف ایک نکتہ سے ٹیکس کٹوتی کے قانون کو معطل کردیا ہے قانون معطل ہونے سے نوے ارب روپے کا ٹیکس ضائع ہوگیا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کسی قانون کو کالعدم تو کرسکتی ہے لیکن معطل نہیں ، جسٹس قا ضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں انکم ٹیکس کے ساتھ یوٹیلٹی ٹیکس کا بھی جائزہ لینا ہوگا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نے ود ہولڈنگ ٹیکس کی وصولی کو معطل کیا قانون کو نہیں ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا قانون کے مطابق جو شخص ٹیکس دہندہ نہیں ہوتا اسے پہلے کمشنر انکم ٹیکس سے سرٹیفکیٹ لینا ہوگا، موبائل کارڈ خریدتے وقت نہیں بلکہ لوڈ کرتے وقت ٹیکس کاٹ لیاجاتا ہے۔ کارڈ لوڈ ہونے کے بعد کیسے سرٹیفکیٹ دی جائے کیا ریڑھے پر بیٹھا شخص ریفنڈ کیلئے انکم ٹیکس کمشنر کے پاس جائے گا ریاست کو اپنے شہریوں کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے ایسا نہیں کہ جو ریفنڈ مانگ لے اس کو دے دیں ریاست کولوگوں کی جیبوں سے اس طرح کا پیسہ نہیں نکالنا چاہیے ،ایڈوانس ٹیکس تعریف کے اعتبار سے انکم ٹیکس ہے ایک صارف جو ٹیکس دینے کی تعریف میں نہیں آتا وہ کیسے ٹیکس دے سکتا ہے ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ایسا میکنزم بنائے تاکہ نان فائلر سے ٹیکس نہ لیا جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی ۔ سپریم کورٹ

تازہ ترین خبریں