05:30 am
  آئین میں صدارتی نظام کی  گنجائش نہیں ،اے این پی

آئین میں صدارتی نظام کی گنجائش نہیں ،اے این پی

05:30 am

عمران کی حکومت اب سیاسی نہیں ٹیکنو کریٹس کی حکومت بن چکی ہے اور صدارتی نظام کی جانب پہلا قدم ہے، بزدار نمائشی تھے تخت پنجاب کا فیصلہ جلد ہونے جا رہا ہے باچا خان کے سپاہی ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھیں گے، پس پردہ قوتوں نے ہاتھ کھینچا توعمران خان کی حکومت زمین بوس ہو جائے گی،ملک دو ٹکڑے ہونے سے سبق سیکھنا چاہئے۔ پبی ( نما ئندہ اوصاف ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ آئین میں صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے، عمران کی حکومت اب سیاسی نہیں ٹیکنو کریٹس کی حکومت بن چکی ہے اور صدارتی نظام کی جانب پہلا قدم ہے، بزدار نمائشی تھے تخت پنجاب کا فیصلہ جلد ہونے جا رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں اے این پی سرائیکی یونٹ کے انٹرا پارٹی الیکشن کے سلسلے میں منعقدہ انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سرائیکی بیلٹ کیلئے اے این پی کی کابینہ تشکیل دے دی گئی جس کے مطابق سید سالم علی اے این پی سرائیکی یونٹ کے صدر اور محمد مصطفی شیخ جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے، میاں افتخار حسین نے کابینہ ممبران کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہم سب باچا خان کے سپاہی ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھیں گے، انہوں نے توقع ظاہر کی کہ نو منتخب کابینہ پارٹی کی مزید فعالیت و عوام کی خدمت کیلئے ہر وقت میدان میں موجود رہے گی، ملکی حالات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ صوبائی خودمختاری کی جنگ لڑی اور تاریخ نے ثابت کیا کہ ہماری لڑائی درست تھی ،انہوں نے کہا کہ آج ملک میں پھر وہی کھیل کھیلا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پہلے بھی ملک دو ٹکڑے ہو چکا ہے ، ماضی میں مجیب الرحمٰن کو اکثریت ملنے کے باوجود اقتدار نہیں دیا گیا اور اس طرف ڈکٹیٹروں نے ملک توڑنے پر اکتفا کیا،انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کا مقصد ملک دشمنوں کو خوش کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران کو اقتدار دلانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن پھر بھی دو تہائی اکثریت نہ مل سکی، جس کی وجہ سے وہ اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کیلئے اہل نہیں تھے،انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پارلیمانی نظام کا حلیہ ویسے ہی بگاڑ دیا گیا ہے اور ٹیکنوکریٹس کو مختلف محکمے حوالہ کر دیئے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ کپتان میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اسد عمر کو ہٹا سکے ،وزیر خزانہ کو گھر بھیجنے والے پردے کے پیچھے تھے جن کے اشارے پر یہ سب کچھ ہوا ، ایک ناہل کپتان ہی اپنے لئے نا اہل ٹیم چن سکتا ہے اگر ناہل ٹیم گھر جاسکتی ہے تو پہلے نا اہل کپتان کو گھر جانا چاہئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر پی ٹی آئی کے نام سے مصنوعی جماعت بنائی اور مختلف پارٹیوں سے لوگوں کو نکال کر اس میں شامل کیا،جس دن اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹی عمران خان کی حکومت زمین بوس ہو جائے گی،انہوں نے کہا کہ بزدار بھی نمائشی وزیر اعلیٰ تھا پنجاب کے تخت کا فیصلہ چند روز میں ہو جائے گا ۔