06:05 am
 بلدیہ شرقی میں غیر قانونی ایڈورٹائزنگ جاری، ماہانہ کروڑوں کی کمائی

بلدیہ شرقی میں غیر قانونی ایڈورٹائزنگ جاری، ماہانہ کروڑوں کی کمائی

06:05 am

تین کالم بلدیہ شرقی میں غیر قانونی ایڈورٹائزنگ جاری، ماہانہ کروڑوں کی کمائی چورنگیوں اور پا رکوں کے بعد ضلع کے پول بھی ’’برائے فروخت ‘‘ کوئی پول ایسا نہیں جہاں غیر قانونی اسٹیمرز موجود نہ ہوں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی جاری ،اجازت نامے کون جاری کر رہاہے کسی کومعلوم نہیں،چیئرمین ،ڈائریکٹر بھی لاعلم کراچی ( اسٹاف رپورٹر) بلدیہ ضلع شرقی میں’’ نامعلوم افراد‘‘ کی حکومت قائم،ڈی ایم سی کی حدود میں عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں جاریں،پبلک پراپرٹی غیر قانونی طور پر ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کے حوالے کی جانے لگی،چورنگیوں اور پارکوں کے بعدضلع کے پول بھی برائے فروخت،چیئرمین بھی لاعلم اور ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ بھی بے خبر،سینئر افسران نے ڈی ایم سی میں نامعلوم افراد کی سرگرمیوں کو ’’جنات کا اقدام‘‘ قرار دیدیا۔تفصیلات کے مطابق بلدیہ ضلع شرقی میں عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ عدالتی احکامات کیخلاف اجازت نامے کون جاری کر رہا ہے اس سے ضلع شرقی کے چیئرمین معید انور سمیت ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ عبدالغنی بھی لاعلم اور بے خبر ہیں،بلدیہ ضلع شرقی آﺅٹ ڈور ایڈورٹائزمنٹ کمپنیوں کیلئے سونے کی کان کہلایا جاتا ہے جس کی اہم شاہراہوں ،سڑکوںاور چورنگیوں پر عدالتی پابندی کے باوجود کھلے عام ایڈورٹائزمنٹ کی بھرمار کا سلسلہ کھلے عام جاری ہے،ڈی ایم سی کا کوئی پول ایسا نہیں جہاں غیر قانونی طور پر اسٹیمرز موجود نہ ہوں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈورٹائزمنٹ کے نام پر ماہانہ کروڑوں روپے کی لوٹ مار کی جارہی ہے تاہم اس کی ذمہ داری کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں جس کے باعث ضلع شرقی کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے،سندھی مسلم ہاﺅسنگ سوسائٹی کی اہم چورنگی کو ایک مرتبہ پھر نامعلوم افراد نے ایک نجی فوڈ کمپنی کے حوالے کردیا ہے جس نے پوری چورنگی پر قبضہ کر کے اپنی زبردست تشہیری مہم شروع کردی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقہ یوسی چیئرمین نے اس پر سخت اعتراض کیا اور متعلقہ کمپنی سے باز پرس کی تو ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ عبدالغنی پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مذکورہ ایڈورٹائزمنٹ کا اجازت نامہ جاری کیا ہے،تاہم جب اس سلسلے میں ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ عبدالغنی سے ان کا موقف معلوم کیا گیا تو انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ گذشتہ ایک ہفتے سے علالت کے باعث دفتر ہی نہیں آئے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب وہ دفتر ہی نہیں آئے تو اجازت نامہ کیسے جاری کرسکتے ہیں انہوں نے اس سے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کیا تاہم اس سلسلے میں جب ضلع شرقی کے چیئرمین معید انور سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی مذکورہ اجازت نامہ جاری کئے جانے سے لاعملی اور حیرت کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ سندھی مسلم چورنگی ڈسٹرکٹ ایسٹ کی انتہائی اہم چورنگی ہے جہاں کھلے عام ایک فوڈ کمپنی کی جانب سے پوری چورنگی کو اپنی تشہیرکیلئے استعمال کرنا ضلع شرقی کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے ،مذکورہ صورتحال پر ادارے کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ضلع شرقی میں جنات کام کر رہے ہیں جس کے باعث ذمہ داروں کا تعین کرنا مشکل ہوگیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ چورنگی پبلک پراپراٹی ہے جسے کسی صورت کمرشل استعمال کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ غیر قانونی ایڈورٹائزمنٹ