06:05 am
لعل شہبازقلندرعرس،سیہون میں 40 ہیٹ اسٹروک کیمپ قائم ہونگے

لعل شہبازقلندرعرس،سیہون میں 40 ہیٹ اسٹروک کیمپ قائم ہونگے

06:05 am

لیڈ صفحہ تین لعل شہبازقلندرعرس،سیہون میں 40 ہیٹ اسٹروک کیمپ قائم ہونگے چیف سیکریٹری کی زیرصدارت اجلاس ،کمشنرحیدرآبادمیں انتظامات سے متعلق بریفنگ دی،موٹروے پولیس کے 300 اہلکارڈیوٹی دینگے،موبائل ایمبولینس موجود ہوگی عرس کے دوران 25 لاکھ زائرین کی شرکت متوقع ،20ہزارکیلئے ٹینٹ سٹی قائم کیا جائیگا،داخلہ واک تھروگیٹس کے ذریعے ہوگا،سیکیورٹی اولین ترجیح ہے، سید ممتازعلی شاہ کراچی (اسٹاف رپورٹر)لعل شہباز قلندرکے 767 ویں سالانہ عرس کے انتظامات سے متعلق چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقدہ ہوا۔اجلاس میں سیکریٹری اوقاف محمد نواز شیخ، کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ، ڈی آئے جی حیدرآباد نعیم شیخ کی انتظامات کے متعلق بریفنگ دی۔ اجلاس میں کمشنر حیدرآباد نے بتایا کہ انڈس ہائی وے پر حادثات روکنے اور زائرین کی سہولت اور رہنمائی کے لئے موٹر وے پولیس کے 300 اہلکار ، پولیس موبائیل اور ایمبولینس موجود ہونگے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیہون شہر میں مختلف مقامات پر 40 ہیٹ اسٹروک کیمپ اور مختلف کیمپ ہسپتال قائم کئے گئے ہیں۔ 20 ہزار زائرین کی سہولت کے لئے سیہون میں ٹینٹ سٹی قائم کیا گیاہے۔ ڈی آئی جی حیدرآباد نے بتایا کہ عرس مبارک کے لئے جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا گیا ہے جس میں سہون آنے والے تمام راستوں پر چیکنگ ہوگی۔ ڈی آئی جی حیدرآباد نے مزید کہا کہ تمام زائرین کو واک تھرو گیٹ سے داخل کر کے کلیئر قرار دے کر مزار کی طرف روانہ کیا جائے گا اس معاملے میں اوقاف اور ضلعی انتظامیہ کا انکے ساتھ تعاون ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ اس دفعہ لعل شہباز قلندر کے عرس کے موقع پر 25 لاکھ سے زائد زائرین کی آمد متوقع ہے۔ زائرین کے لئے تمام سہولیات فراہم کی جائیں اور عرس مبارک پر سیکیورٹی اولین ترجیح ہے۔ کنٹرول روم سے سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ پولیس، رینجرز ، اوقاف اور ضلعی انتظامیہ کا آپس میں رابطہ میں رہیں۔انہوں نے کہا عرس کے موقع پر شہر میں صفائی اور پانی کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ سیکریٹری اوقاف نے کہا کہ عرس کے دوران بجلی اور پانی کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں، ٹینکر اور بوتل واٹر کے ذریعے زائرین کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ڈی آئی جی حیدرآباد رینجرز، پولیس اور نیوی کی نفری اڑل واہ اور دریائے سندھ پر موجود ہونگے اور پولیس کی طرف سے بھی ایک اسپتال قائم کیا گیا ہے، درگاہ کے آس پاس سے تمام انکروچمنٹ کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔